Thursday, 17 February 2022

پھولوں کا ہے قصور نہ خاروں کی بات ہے

 پھولوں کا ہے قصور نہ خاروں کی بات ہے

یہ دل کی رہگزر پہ خساروں کی بات ہے

تُو ہے مکین روشنی تجھ کو بتائیں کیا

یہ تو شب مہیب کے ماروں کی بات ہے

آؤ کہ مل کے توڑیں شب ہجر کی فصیل

اس پار جگمگاتے ستاروں کی بات ہے

سمجھا نہیں جو گفتگو سادہ زبان میں

اس کی سمجھ سے بالا اشاروں کی بات ہے

دانشورانِ قوم کیوں فردا سے التفات

یہ چند کی نہیں ہے ہزاروں کی بات ہے

جب تک حصولِ زر ہے تِرا مقصد حیات

تیری ہر ایک بات خساروں کی بات ہے

وقتِ نزع قریب ہے باد سموم کا

ہر شاخ کی زباں پر بہاروں کی بات ہے

تابشِ ندی میں بدلے گا اک روز برفزار

دم توڑتی کرن میں شراروں کی بات ہے


شہزاد تابش

No comments:

Post a Comment