پھولوں کا ہے قصور نہ خاروں کی بات ہے
یہ دل کی رہگزر پہ خساروں کی بات ہے
تُو ہے مکین روشنی تجھ کو بتائیں کیا
یہ تو شب مہیب کے ماروں کی بات ہے
آؤ کہ مل کے توڑیں شب ہجر کی فصیل
اس پار جگمگاتے ستاروں کی بات ہے
سمجھا نہیں جو گفتگو سادہ زبان میں
اس کی سمجھ سے بالا اشاروں کی بات ہے
دانشورانِ قوم کیوں فردا سے التفات
یہ چند کی نہیں ہے ہزاروں کی بات ہے
جب تک حصولِ زر ہے تِرا مقصد حیات
تیری ہر ایک بات خساروں کی بات ہے
وقتِ نزع قریب ہے باد سموم کا
ہر شاخ کی زباں پر بہاروں کی بات ہے
تابشِ ندی میں بدلے گا اک روز برفزار
دم توڑتی کرن میں شراروں کی بات ہے
شہزاد تابش
No comments:
Post a Comment