ہر کوئی ہے شہر میں حالات کا مارا ہوا
میں اکیلے ہی نہیں وحشت زدہ ٹوٹا ہوا
اے مسیحا چھوڑ دے اب حال پر اپنے مجھے
زخمِ دل چارہ گری سے اور بھی گہرا ہوا
آگ گلشن میں لگائی سرکشوں نے ہی مگر
سر کسی معصوم کا ہے دار پر لٹکا ہوا
موت کی دہلیز کے آگے کھڑی ہے زندگی
میں ابھی ہوں مال و زر کی حرص میں الجھا ہوا
برق سے پہلے کسی نے سازشیں کی اس قدر
راکھ کی صورت نشیمن ہے مِرا، بکھرا ہوا
میں نہیں فرہاد ہوں مجنوں کوئی اس دشت کا
بخت کا تارا انہی سے ہو بہ ہو ملتا ہوا
لاکھ تدبیریں کی عارف کچھ نہیں بدلا مگر
جو مقدر میں خدا نے تھا مِرے لکھا ہوا
جاوید عارف
No comments:
Post a Comment