یہ بات سوچ لی صحرا میں ٹھوکریں کھاتے
کہ پیاس ہی تو مٹا دے سراب سے پہلے
نہیں نے تیری تو مجروح کر دیا احساس
نہ پھر سوال اٹھایا جواب سے پہلے
میں بھول جاؤں تجھے اور تِرے بغیر جیوں
فنا تو کر دے مجھے اس عذاب سے پہلے
خدا کو حشر میں دیکھوں گی تخت پہ ظاہر
گنہ یہ کیسے کروں گی حساب سے پہلے
رباب دل نہیں اب تو یہ بیت عشق کا ہے
کھلے نہ درد کہیں حائل حجاب سے پہلے
طاہرہ رباب
No comments:
Post a Comment