Thursday, 17 February 2022

غفور تو ہے کریم تو ہے

عارفانہ کلام حمدیہ کلام


غفور تُو ہے، کریم تُو ہے

مِرے خدایا! عظیم تو ہے

جلال دیکھوں کہ رحم تیرا

جلیل تو ہے، رحیم تو ہے

دل و زباں کہہ رہے ہیں مولا

رفیق تو ہے، کلیم تو ہے

مِرے خدا! بخش دے سبھی کو

لطیف تو ہے، حلیم تو ہے

مجھے بنا مصطفیٰؐ کا خادم

وکیل تو ہے، حکیم تو ہے

تجھے پتہ ہے مِری طلب کا

خبیر تو ہے، علیم تو ہے


اسامہ زاہروی

No comments:

Post a Comment