اے رب العالمین! یہ کیسی بہار ہے
کوندے لپک رہے ہیں فلک شعلہ بار ہے
کیسی ہوا چلی ہے کہ گلشن میں ہر طرف
جس پھول کو بھی دیکھتا ہوں داغدار ہے
رسنے لگے ہیں آبلے پیروں کے اس گھڑی
ہر سمت ریگزار یہاں خارزار ہے
اتنا بہا ہے خون میرا اس دیار میں
گزرا ہوں میں جدھر سے ادھر لالہ زار ہے
واعظ چلا تھا زعم میں اللہ کی پناہ
ہوش و حواس گم ہیں قبا تار تار ہے
دورِ خزاں ہے اور چہکتا ہے عندلیب
فصلِ بہار آئے گی یہ انتظار ہے
عارف کے لب کھلے بھی نہ تھے سر قلم ہوا
رودادِ دل لہو سے یہاں آشکار ہے
عارف نقوی
No comments:
Post a Comment