Thursday, 17 February 2022

اک پشیمان سی حسرت سے مجھے سوچتا ہے

 اک پشیمان سی حسرت سے مجھے سوچتا ہے

اب یہی شہر محبت سے مجھے سوچتا ہے

میں تو محدود سے لمحوں میں ملا تھا اسسے

پھر بھی وہ کتنی وضاحت سے مجھے سوچتا ہے

میں تو مر جاؤں اگر سوچنے لگ جاؤں اسے

اور وہ کتنی سہولت سے مجھے سوچتا ہے

جس نے سوچا ہی نہ تھا ہجر کا ممکن ہونا

دکھ میں ڈوبی ہوئی حیرت سے مجھے سوچتا ہے

کتنا خوش فہم ہے وہ شخص کہ ہر موسم میں

اک نئے رخ، نئی صورت سے مجھے سوچتا ہے

گرچہ اب ترکِ مراسم کو بہت دیر ہوئی

اب بھی وہ کتنی وضاحت سے مجھے سوچتا ہے


منور جمیل قریشی

No comments:

Post a Comment