اک پشیمان سی حسرت سے مجھے سوچتا ہے
اب یہی شہر محبت سے مجھے سوچتا ہے
میں تو محدود سے لمحوں میں ملا تھا اسسے
پھر بھی وہ کتنی وضاحت سے مجھے سوچتا ہے
میں تو مر جاؤں اگر سوچنے لگ جاؤں اسے
اور وہ کتنی سہولت سے مجھے سوچتا ہے
جس نے سوچا ہی نہ تھا ہجر کا ممکن ہونا
دکھ میں ڈوبی ہوئی حیرت سے مجھے سوچتا ہے
کتنا خوش فہم ہے وہ شخص کہ ہر موسم میں
اک نئے رخ، نئی صورت سے مجھے سوچتا ہے
گرچہ اب ترکِ مراسم کو بہت دیر ہوئی
اب بھی وہ کتنی وضاحت سے مجھے سوچتا ہے
منور جمیل قریشی
No comments:
Post a Comment