آسرا اب نہیں چاہئے ہے مجھے
یہ خدا اب نہیں چاہئے ہے مجھے
چاہئے ہے مجھے آپ کا ساتھ بس
مشورہ اب نہیں چاہئے ہے مجھے
جو ہواؤں کی سازش میں شامل رہا
وہ دِیا اب نہیں چاہئے ہے مجھے
منزلیں ڈھونڈ لیں گی مجھے آپ ہی
راستہ اب نہیں چاہئے ہے مجھے
مجھ کو ملنا ہے مٹی میں آ کے تِری
فاصلہ اب نہیں چاہئے ہے مجھے
اس کی آنکھوں میں ہر دم سنورتی رہوں
آئینہ اب نہیں چاہئے ہے مجھے
نکہت افتخار
No comments:
Post a Comment