Thursday, 17 February 2022

تاریخ نے بتائی ہے یہ داستان زخم

 تاریخ نے بتائی ہے یہ داستانِ زخم

آباد آدمی نے کیا اک جہانِ زخم

آنکھوں میں رنج و غم کا سمندر تھا موجزن

جونہی زمینِ دل پہ جھکا آسمانِ زخم

کیا پوچھتے ہو کیا ملا بازارِ عشق میں

کچھ بھی نہ تھا سوائے جنون و دکانِ زخم

دل ساحلِ قرار کا مشتاق تھا، مگر

یادوں کی آندھیوں میں کھلے باد بانِ زخم

زخموں کو سہہ گیا تو مجھے دے کے زخم اور

گویا وہ لے رہے تھے فقط امتحانِ زخم

زخمی جو راہ رو تھے وہ منزل سے جاملے

مانندِ سنگ میل رہا ہرنشانِ زخم

موضوعِ زخم آیا توسب چپ رہےبلال

زخموں کو خود ہی بننا پڑا ہے زبانِ زخم


طاہر بلال

No comments:

Post a Comment