کیوں شکایت کروں زمانے کی
سب خطائیں ہیں دل لگانے کی
میری بربادیوں کی باعث ہیں
رفعتیں میرے آشیانے کی
اک طرف میں اسیرِ رنج و بلا
اک طرف گردشیں زمانے کی
کیوں شکایت کروں زمانے کی
سب خطائیں ہیں دل لگانے کی
میری بربادیوں کی باعث ہیں
رفعتیں میرے آشیانے کی
اک طرف میں اسیرِ رنج و بلا
اک طرف گردشیں زمانے کی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ہے طوفانِ بلا میں کشئ دل یا رسول اللہﷺ
نہیں معلوم کس جانب ہے ساحل یا رسول اللہ
مدد کیجیے کہ ہے درپیش مشکل یا رسول اللہ
بڑی الجھن میں ہے الجھا ہوا دل یا رسول اللہ
ہر اک دربار میں ہر در پہ جا کر جبہ سائی کی
کوئی سنتا نہیں آوازِ سائل یا رسول اللہﷺ
ان کے ماتھے پر شکن کیا آ گئی
کائنات زندگی تھرّا گئی
ہنستے ہنستے رو دئیے شامِ فراق
بھولنے والے تیری یاد آ گئی
پھر ہوئے تازہ میرے زخمِ جگر
پھر بہاروں پر محبت چھا گئی
راز دل کیا زبان سے نکلا
گھر کا بھیدی مکان سے نکلا
کیا ملا حال دل بیاں کر کے
کیا نتیجہ بیان سے نکلا
ہو گیا ہم کنار منزل شوق
دل جو وہم و گمان سے نکلا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جانب دل کبھی اے دیدۂ بینا دیکھا
آتشِ غم نظر آئی، میرا سینہ دیکھا
عرش پر جانے کی راہیں ملیں زینہ دیکھا
اس نے سب دیکھ لیا جس نے مدینہ دیکھا
موت نے بھی کفِ افسوس ملے بالیں پر
تیرے بیمار کے رخ پر جو پسینہ دیکھا