Showing posts with label آصف جمال. Show all posts
Showing posts with label آصف جمال. Show all posts

Monday, 20 July 2026

ایک سرد جنگ ہے اب محبتیں کہاں

 ایک سرد جنگ ہے اب محبتیں کہاں

ٹُوٹتے ہوئے طلسم، پھیلتا ہوا دُھواں

وہ بھی اپنے حُسن سے بے خیال ہو چلا

اور خواب بن گئیں میری سرگِرانیاں

قیس کی محبتیں، کوہکن کی چاہتیں

اور یہ روایتیں بھُولتی کہانیاں

Sunday, 1 March 2026

کیا گھر کی طرح دشت بھی آسیب زدہ تھا

 سائے کی طرح کوئی مرے ساتھ لگا تھا

کیا گھر کی طرح دشت بھی آسیب زدہ تھا

پرسش کو نہ تھا کوئی تو تنہا تھا بہت میں

محروم جو تھا سب سے خفا رہنے لگا تھا

ہر دم نئے احساس کا طوفان تھا دل میں

کیا جانیے میں کون سی مٹی سے بنا تھا

Wednesday, 31 July 2024

مگر نہیں تھا فقط میر خوار میں بھی تھا

 مگر نہیں تھا فقط میر خوار میں بھی تھا 

کہ اہل درد میں آشفتہ کار میں بھی تھا 

صبا کی طرح اسے بھی نہ تھا ثبات کہیں 

نہ جانے کیا تھا بہت بے قرار میں بھی تھا 

پناہ لینی پڑی تھی مجھے بھی سائے میں 

رہین منت دیوار یار میں بھی تھا 

Tuesday, 6 April 2021

ہم بھی تھے گوشہ گیر کہ گمنام تھے بہت

 ہم بھی تھے گوشہ گیر کہ گُمنام تھے بہت

اس طرزِ زیست میں مگر آرام تھے بہت

دنیا ہے کار خانۂ وہم و گماں تمام

سچے وہی فسانے تھے جو عام تھے بہت

خود اپنے اضطرارِ طبیعت سے تنگ تھے

ہم جو شکارِ گردشِ ایام تھے بہت