ایک سرد جنگ ہے اب محبتیں کہاں
ٹُوٹتے ہوئے طلسم، پھیلتا ہوا دُھواں
وہ بھی اپنے حُسن سے بے خیال ہو چلا
اور خواب بن گئیں میری سرگِرانیاں
قیس کی محبتیں، کوہکن کی چاہتیں
اور یہ روایتیں بھُولتی کہانیاں
ایک سرد جنگ ہے اب محبتیں کہاں
ٹُوٹتے ہوئے طلسم، پھیلتا ہوا دُھواں
وہ بھی اپنے حُسن سے بے خیال ہو چلا
اور خواب بن گئیں میری سرگِرانیاں
قیس کی محبتیں، کوہکن کی چاہتیں
اور یہ روایتیں بھُولتی کہانیاں
سائے کی طرح کوئی مرے ساتھ لگا تھا
کیا گھر کی طرح دشت بھی آسیب زدہ تھا
پرسش کو نہ تھا کوئی تو تنہا تھا بہت میں
محروم جو تھا سب سے خفا رہنے لگا تھا
ہر دم نئے احساس کا طوفان تھا دل میں
کیا جانیے میں کون سی مٹی سے بنا تھا
مگر نہیں تھا فقط میر خوار میں بھی تھا
کہ اہل درد میں آشفتہ کار میں بھی تھا
صبا کی طرح اسے بھی نہ تھا ثبات کہیں
نہ جانے کیا تھا بہت بے قرار میں بھی تھا
پناہ لینی پڑی تھی مجھے بھی سائے میں
رہین منت دیوار یار میں بھی تھا
ہم بھی تھے گوشہ گیر کہ گُمنام تھے بہت
اس طرزِ زیست میں مگر آرام تھے بہت
دنیا ہے کار خانۂ وہم و گماں تمام
سچے وہی فسانے تھے جو عام تھے بہت
خود اپنے اضطرارِ طبیعت سے تنگ تھے
ہم جو شکارِ گردشِ ایام تھے بہت