Sunday, 1 March 2026

کیا گھر کی طرح دشت بھی آسیب زدہ تھا

 سائے کی طرح کوئی مرے ساتھ لگا تھا

کیا گھر کی طرح دشت بھی آسیب زدہ تھا

پرسش کو نہ تھا کوئی تو تنہا تھا بہت میں

محروم جو تھا سب سے خفا رہنے لگا تھا

ہر دم نئے احساس کا طوفان تھا دل میں

کیا جانیے میں کون سی مٹی سے بنا تھا

کیا کیا نہ پریشانیٔ خاطر سے گزر آئے

کیا کیا نہ پڑے رنج کہ دیکھا نہ سنا تھا

نالے کو اسی دل میں اتر جانے کی حسرت

اور نے کو اسی بھولنے والے کا گلا تھا

آشفتگیٔ سر کی جو تہمت ہے غلط ہے

میں اپنی ہی خوشبو سے پریشان پھرا تھا

یہ کون دل و جاں سے ہم آہنگ ہوا ہے

اس درجہ تو محسوس خدا بھی نہ ہوا تھا


آصف جمال

No comments:

Post a Comment