مجھ کو شامل کر کہانی نے بھرم سا رکھ لیا
ایک بوڑھے کی جوانی نے بھرم سا رکھ لیا
دودھ ماں نے کچھ زیادہ ہی دیا بچے کو آج
اس کو کیا معلوم پانی نے بھرم سا رکھ لیا
یہ مکاں اجداد کا ہے کیسے بیچوں میں اسے
باپ دادا کی نشانی نے بھرم سا رکھ لیا
کب تلک میں زندہ رہتا ان قیامت بانہوں میں
مرنا تو طے تھا کہانی نے بھرم سا رکھ لیا
تم حسیں ہو لوگ تیرے شہر کے بڑھ کر حسیں
چاپلوسی کی بیانی نے بھرم سا رکھ لیا
نعیم طلب
No comments:
Post a Comment