Friday, 13 March 2026

باپ دادا کی نشانی نے بھرم سا رکھ لیا

 مجھ کو شامل کر کہانی نے بھرم سا رکھ لیا

ایک بوڑھے کی جوانی نے بھرم سا رکھ لیا

دودھ ماں نے کچھ زیادہ ہی دیا بچے کو آج

اس کو کیا معلوم پانی نے بھرم سا رکھ لیا

یہ مکاں اجداد کا ہے کیسے بیچوں میں اسے

باپ دادا کی نشانی نے بھرم سا رکھ لیا

کب تلک میں زندہ رہتا ان قیامت بانہوں میں

مرنا تو طے تھا کہانی نے بھرم سا رکھ لیا

تم حسیں ہو لوگ تیرے شہر کے بڑھ کر حسیں

چاپلوسی کی بیانی نے بھرم سا رکھ لیا


نعیم طلب

No comments:

Post a Comment