Saturday, 28 March 2026

اے کاش سنتا مری وہ گزارشات کبھی

 اے کاش سنتا مری وہ گزارشات  کبھی

جنہیں زمانہ کہے گا نگارشات کبھی 

بدن کہ مٹی کا بت ہے وہ جسم یا پیکر

بس اک شخص رہا میری کائنات کبھی

مجھے وصال ملا تھا تو ہجر پایا ہے

نہیں بھلانے کی اس کی نوازشات کبھی

کہ ایک عمر جیا مرگ دل سے پہلے میں

کہ موجزن تھیں مرے دل میں خواہشات کبھی 

زمین تانبے کی اور چرخ سرخ ہوگا کبھی

نظر نے دیکھنے ہیں یہ تغیرات کبھی

میں کالی بلیوں سے اب بھی تو ڈر ہی جاتا ہوں

یقیں کا حصہ رہے ہیں توہمات کبھی


ڈاکٹر مدثر جاوید ملک

No comments:

Post a Comment