اے کاش سنتا مری وہ گزارشات کبھی
جنہیں زمانہ کہے گا نگارشات کبھی
بدن کہ مٹی کا بت ہے وہ جسم یا پیکر
بس اک شخص رہا میری کائنات کبھی
مجھے وصال ملا تھا تو ہجر پایا ہے
نہیں بھلانے کی اس کی نوازشات کبھی
کہ ایک عمر جیا مرگ دل سے پہلے میں
کہ موجزن تھیں مرے دل میں خواہشات کبھی
زمین تانبے کی اور چرخ سرخ ہوگا کبھی
نظر نے دیکھنے ہیں یہ تغیرات کبھی
میں کالی بلیوں سے اب بھی تو ڈر ہی جاتا ہوں
یقیں کا حصہ رہے ہیں توہمات کبھی
ڈاکٹر مدثر جاوید ملک
No comments:
Post a Comment