اندھیرا کیوں جا بجا ہوا ہے
چراغِ دل تو جلا ہوا ہے
ہجومِ حسرت ہر اک جگہ ہے
اے ناخداؤں یہ کیا ہوا ہے
ستم گرو تم ڈرو خدا سے
کوئی نہ ہو تب خدا ہوا ہے
بے باکی لہجے میں لوٹ آئی
کسی سے پھر رابطہ ہوا ہے
کہانی میں چہرے کچھ بدل کر
پھر اک نیا سلسلہ ہوا ہے
ستم ظریفی ملاحظہ ہو
ستمگر اب ناصحا ہوا ہے
نوشین راؤ
No comments:
Post a Comment