طنز کے پتھر نامِ وفا پر جب بھی کوئی برساتا ہے
درد کا رشتہ آنسو بن کر آنکھوں میں آ جاتا ہے
رات اندھیری ناگن بن کر کروٹ کروٹ ڈستی ہے
یاد کا مجرم جب خوابوں کو زہر کے جام پلاتا ہے
اوڑھ کے مذہب کی چادر کو قتل کی سازش ہوتی ہے
سچائی کا بادل ہر دم کُفر کے پھل برساتا ہے
نفسا نفسی کا عالم ہے، حشر بپا پے ہر دل میں
پیار وفا رشتے ناتوں سے اب انساں گھبراتا ہے
اپنے آپ کو لے کر مظہر ہم بازار میں آئے ہیں
سن رکھا ہے انسانوں کا خون خریدا جاتا ہے
مظہر رحمٰن
No comments:
Post a Comment