کیسا یہ خوف شہر سے جنگل میں آ گیا
بُو اپنی گُل سمیٹ کے کونپل میں آ گیا
مُٹھی میں بھر کے ریت اُڑا دی فقیر نے
سارے کا سارا دشت ہی ہلچل میں آ گیا
مجھ سے بچھڑ کے اس کی بھی حالت بُری ہوئی
ہر ایک اشک دونوں کا بادل میں آ گیا
آنکھیں دِکھا رہی ہے جو اب آفتاب کو
اتنا کہاں سے حوصلہ مشعل میں آ گیا
جس کو تھا حکم کاٹ دے سب عاشقوں کے سر
اپنے کٹا کے ہاتھ وہ مقتل میں آ گیا
کِھلنے لگے ہیں پُھول محبت کے نام پر
عاشق کوئی سُنا ہے کہ محفل میں آ گیا
قُدرت نے اس کو حُسن بھی کچھ کم نہیں دیا
تاروں کا اک جہان ہے آنچل میں آ گیا
مزمل صفی
No comments:
Post a Comment