Thursday, 26 March 2026

عاشق کوئی سنا ہے کہ محفل میں آ گیا

 کیسا یہ خوف شہر سے جنگل میں آ گیا

بُو اپنی گُل سمیٹ کے کونپل میں آ گیا

مُٹھی میں بھر کے ریت اُڑا دی فقیر نے

سارے کا سارا دشت ہی ہلچل میں آ گیا

مجھ سے بچھڑ کے اس کی بھی حالت بُری ہوئی

ہر ایک اشک دونوں کا بادل میں آ گیا

آنکھیں دِکھا رہی ہے جو اب آفتاب کو

اتنا کہاں سے حوصلہ مشعل میں آ گیا

جس کو تھا حکم کاٹ دے سب عاشقوں کے سر

اپنے کٹا کے ہاتھ وہ مقتل میں آ گیا

کِھلنے لگے ہیں پُھول محبت کے نام پر

عاشق کوئی سُنا ہے کہ محفل میں آ گیا

قُدرت نے اس کو حُسن بھی کچھ کم نہیں دیا

تاروں کا اک جہان ہے آنچل میں آ گیا


مزمل صفی

No comments:

Post a Comment