پھر کھل گئی کوئی غزل دل کی کتاب کی
ہونٹوں کو چھو گئیں وہی سانسیں گلاب کی
وہ شخص جانے کیوں بہت اپنا لگا مجھے
جس نے کبھی چھیڑ دیں باتیں جناب کی
دل کے فقیر نے کہا؛ جو مانگنا ہے مانگ
میں نے بھی پیر مانگ لی ساجھے حساب کی
آیا جو تیرا گاؤں تو اُترا نہیں گیا
پیروں میں پھنس کے رہ گئی ڈوری رکاب کی
لگتے رہے ہمیشہ ہی غیروں کے داؤں پر
جیسے خریدے کوئی پانکھیں عقاب کی
دم توڑنے سے پہلے یہ احساس سا ہوا
صحرا میں جیسے گونجتی دھڑکن رباب کی
مدھوریما سنگھ
No comments:
Post a Comment