Sunday, 22 March 2026

پھر کھل گئی کوئی غزل دل کی کتاب کی

 پھر کھل گئی کوئی غزل دل کی کتاب کی

ہونٹوں کو چھو گئیں وہی سانسیں گلاب کی

وہ شخص جانے کیوں بہت اپنا لگا مجھے

جس نے کبھی چھیڑ دیں باتیں جناب کی

دل کے فقیر نے کہا؛ جو مانگنا ہے مانگ

میں نے بھی پیر مانگ لی ساجھے حساب کی

آیا جو تیرا گاؤں تو اُترا نہیں گیا

پیروں میں پھنس کے رہ گئی ڈوری رکاب کی

لگتے رہے ہمیشہ ہی غیروں کے داؤں پر

جیسے خریدے کوئی پانکھیں عقاب کی

دم توڑنے سے پہلے یہ احساس سا ہوا

صحرا میں جیسے گونجتی دھڑکن رباب کی


مدھوریما سنگھ

No comments:

Post a Comment