Tuesday, 17 March 2026

جہاں پہ ہوتا ہوں اکثر وہاں نہیں ہوتا

 جہاں پہ ہوتا ہوں اکثر وہاں نہیں ہوتا

وہیں تلاش کرو میں جہاں نہیں ہوتا

اگر تمہاری زباں سے بیاں نہیں ہوتا

مِرا وجود کبھی داستاں نہیں ہوتا

بچھڑ گیا تھا وہ ملنے سے پیشتر ورنہ

میں اس طرح سے کبھی رائیگاں نہیں ہوتا

نظر بچا کے نکلنا تو چاہتا ہوں مگر

وہ کس جگہ سے ہے غائب کہاں نہیں ہوتا

کبھی تو یوں کہ مکاں کے مکیں نہیں ہوتے

کبھی کبھی تو مکیں کا مکاں نہیں ہوتا


ندیم احمد

No comments:

Post a Comment