Thursday, 26 March 2026

ہے زمانوں پہ راج پتھر کا

 کل بھی پتھر کا آج بھی پتھر کا

ہے زمانوں پہ راج پتھر کا

آپ کی سوچ آئینہ تمثال

اور سارا سماج پتھر کا

وہ پہنتے ہیں اور دکھاتے ہیں

حسن سے امتزاج پتھر کا

تم نے پہنے ہیں ہم نے جھیلے ہیں

جانتے ہیں مزاج پتھر کا

کیا کرو گے جو احتجاج ہوا

اور پھر احتجاج پتھر کا

تم نے مرشد کو سُن لیا تو سُنو

چند پتھر علاج پتھر کا


مرشد سعید ناصر

No comments:

Post a Comment