کل بھی پتھر کا آج بھی پتھر کا
ہے زمانوں پہ راج پتھر کا
آپ کی سوچ آئینہ تمثال
اور سارا سماج پتھر کا
وہ پہنتے ہیں اور دکھاتے ہیں
حسن سے امتزاج پتھر کا
تم نے پہنے ہیں ہم نے جھیلے ہیں
جانتے ہیں مزاج پتھر کا
کیا کرو گے جو احتجاج ہوا
اور پھر احتجاج پتھر کا
تم نے مرشد کو سُن لیا تو سُنو
چند پتھر علاج پتھر کا
مرشد سعید ناصر
No comments:
Post a Comment