Thursday, 26 March 2026

اٹھائیں ہجر کی شب دل نے آفتیں کیا کیا

 اٹھائیں ہجر کی شب دل نے آفتیں کیا کیا

امید وصل میں جھیلیں مصیبتیں کیا کیا

وہی ہے جام وہی مے وہی سبو لیکن

بدل گئی ہیں زمانے کی نیتیں کیا کیا

دبی زبان سے کرتے ہیں غیر در پردہ

تمہارے منہ پہ تمہاری شکایتیں کیا کیا

ستم میں لطف، جفا میں ادا نگاہ میں ناز

عتاب میں بھی ہیں پنہاں عنایتیں کیا کیا

کروں میں ان کی شکایت عزیز جھوٹ غلط

گڑھی ہیں دل سے رقیبوں نے تہمتیں کیا کیا


عزیز حیدرآبادی

No comments:

Post a Comment