سراب خوردہ کسی کہانی میں ڈُوب جائیں
وہ لاؤ لشکر سمیت پانی میں ڈوب جائیں
تمہارے جیسے نہ جانے کتنے عمیق دریا
ہماری آنکھوں کی رائیگانی میں ڈوب جائیں
ہمارے مضروب جسم سے تیر کھینچ لینا
کہ خیالات کی روانی میں ڈوب جائیں
مِرے تخیل کے ساحلوں پر ابھرتے منظر
اداس لمحوں کی بیکرانی میں ڈوب جائیں
کچھ اس طرح سے نہایتِ تشنگی بیاں ہو
کہ لفظ جتنے بھی ہیں معانی میں ڈوب جائیں
غبارِ قیس ان کو ہمسرِ مہر و مہ کرے گا
ستارے اس موجِ خوشگمانی میں ڈوب جائیں
قیس رضا
No comments:
Post a Comment