Wednesday, 18 March 2026

سکون دل ابھی لاؤں کہاں سے

 سکون دل ابھی لاؤں کہاں سے

مجھے فرصت نہیں آہ و فغاں سے

نہ پوچھو ماجرائے شوق ہم سے

کہیں لغزش نہ ہو جائے زباں سے

کرم ان کا ترے حال زبوں پر

مگر یہ بات باہر ہے گماں سے

ابھی شر اور آفت تو ہے باقی

شرافت اٹھ گئی لیکن جہاں سے

نصیحت بزم واعظ میں ہوئی تھی

ادب سیکھا مگر بزم بتاں سے

خبر ہے ان کو حرف مدعا کی

بھلا ہم کیوں کہیں اپنی زباں سے

ہے کیسی روشنی صحن‌ چمن میں

گری ہے برق شاید آسماں سے

نہ بر آئی تمنا دل کی ناصر

اٹھے ہم نامرادانہ جہاں سے


ناصر انصاری

No comments:

Post a Comment