یوں آپ جو آسودۂ غم کرتے رہیں گے
ہم درد دل و جان کو کم کرتے رہیں گے
سمجھے تھے کہ وہ شکوے گِلے بھُول گئے ہیں
معلوم نہ تھا دل پہ رقم کرتے رہیں گے
رکھیں گے تِرے غم کو زمانے سے چھپا کر
تنہائی میں ہم آنکھ کو نم کرتے رہیں گے
آزار پہ آزار دئیے جائیں گے ہنس کر
ہر حال میں وہ ہم پہ کرم کرتے رہیں گے
کیا اپنی حقیقت ہے سوا تیری عطا کے
ہم خود کو تِری ذات میں ضم کرتے رہیں گے
ایمان کی دولت ہے کہیں کُفر کا غلبہ
سب ذکرِ خُدا، ذکرِ صنم کرتے رہیں گے
حالات نہ بدلیں نہ سہی پھر بھی اے مینا
کوشش تو مگر اہلِ قلم کرتے رہیں گے
مینا خان
نسیم خانم
No comments:
Post a Comment