کس نے کہا تھا اتنے سوالات کیجیے
کم تھا کہ ان سے آپ ملاقات کیجیے
اے نازنین، حسنِ مکمل کا واسطہ
بہتر ہمارے شہر کے حالات کیجیے
پہلے مٹیں جناب رہِ عشقِ یار ہے
پھر اس کے بعد ذات کا اثبات کیجیے
تاریکیوں کو عشق میں حیران کیجیے
روشن جمالِ یار سے ہر رات کیجیے
بچ جائیں لوگ تیرِ نگہ سے رضا ڈرو
صدقات کیجیے میاں صدقات کیجیے
محمد رضا نقشبندی
No comments:
Post a Comment