Thursday, 19 March 2026

کس نے کہا تھا اتنے سوالات کیجیے

 کس نے کہا تھا اتنے سوالات کیجیے

کم تھا کہ ان سے آپ ملاقات کیجیے

اے نازنین، حسنِ مکمل کا واسطہ

بہتر ہمارے شہر کے حالات کیجیے

پہلے مٹیں جناب رہِ عشقِ یار ہے

پھر اس کے بعد ذات کا اثبات کیجیے

تاریکیوں کو عشق میں حیران کیجیے

روشن جمالِ یار سے ہر رات کیجیے

بچ جائیں لوگ تیرِ نگہ سے رضا ڈرو

صدقات کیجیے میاں صدقات کیجیے


محمد رضا نقشبندی

No comments:

Post a Comment