یہ زندگی جو گزرتی ہے امتحاں کی طرح
ہمیں عزیز ہے اس یار مہرباں کی طرح
میں اس کو بھولنا چاہوں تو بھول جاؤں مگر
وہ میرے ساتھ ہی رہتا ہے میری جاں کی طرح
سجانا چاہ رہے ہیں مگر سجائیں کیا
ہمارا شہر ہے لوٹی ہوئی دکاں کی طرح
یہ زندگی جو گزرتی ہے امتحاں کی طرح
ہمیں عزیز ہے اس یار مہرباں کی طرح
میں اس کو بھولنا چاہوں تو بھول جاؤں مگر
وہ میرے ساتھ ہی رہتا ہے میری جاں کی طرح
سجانا چاہ رہے ہیں مگر سجائیں کیا
ہمارا شہر ہے لوٹی ہوئی دکاں کی طرح
دل سے وحشی کو شادمان کیا
دیدۂ تر کو دیدبان کیا
ہم قبیلہ ہمارا تھا سقراط
زہر اس نے بھی نوش جان کیا
عشق اپنا اسی کے نام رہا
غیروں کا جانے اس سے کیسا معاملہ ہے
اپنا تو اس گلی میں چرچا بہت رہا ہے
سمجھو نہ یوں کہ ہم سے وہ جانِ جاں خفا ہے
اپنی تو کچھ طبیعت بس یوں ہی بے مزہ ہے
ہاں انجمن میں کم ہے اس کو حجاب لیکن
انجان سا رہا ہے تنہا اگر ملا ہے
ہم کو خلوصِ دل کا کسی نے صلہ دیا ہے
اک تُو نے غم دیا ہے سو وہ بھی کیا دیا ہے
شہرِ نگارِ دل ہے آتش کدے کی صورت
موسم نے اس برس بھی تحفہ بڑا دیا ہے
ہم سے نہالِ گلشن رنگیں نفس ہوئے ہیں
دستِ صبا کو ہم نے رنگِ حنا دیا ہے