Showing posts with label انور خلیل. Show all posts
Showing posts with label انور خلیل. Show all posts

Saturday, 20 December 2025

یہ زندگی جو گزرتی ہے امتحاں کی طرح

 یہ زندگی جو گزرتی ہے امتحاں کی طرح

ہمیں عزیز ہے اس یار مہرباں کی طرح

میں اس کو بھولنا چاہوں تو بھول جاؤں مگر

وہ میرے ساتھ ہی رہتا ہے میری جاں کی طرح

سجانا چاہ رہے ہیں مگر سجائیں کیا

ہمارا شہر ہے لوٹی ہوئی دکاں کی طرح

Thursday, 18 September 2025

دل سے وحشی کو شادمان کیا

 دل سے وحشی کو شادمان کیا

دیدۂ تر کو دیدبان کیا

ہم قبیلہ ہمارا تھا سقراط

زہر اس نے بھی نوش جان کیا

عشق اپنا اسی کے نام رہا

Tuesday, 31 December 2024

غیروں کا جانے اس سے کیسا معاملہ ہے

 غیروں کا جانے اس سے کیسا معاملہ ہے

اپنا تو اس گلی میں چرچا بہت رہا ہے

سمجھو نہ یوں کہ ہم سے وہ جانِ جاں خفا ہے

اپنی تو کچھ طبیعت بس یوں ہی بے مزہ ہے

ہاں انجمن میں کم ہے اس کو حجاب لیکن

انجان سا رہا ہے تنہا اگر ملا ہے

Friday, 9 April 2021

ہم کو خلوص دل کا کسی نے صلہ دیا ہے

 ہم کو خلوصِ دل کا کسی نے صلہ دیا ہے

اک تُو نے غم دیا ہے سو وہ بھی کیا دیا ہے

شہرِ نگارِ دل ہے آتش کدے کی صورت

موسم نے اس برس بھی تحفہ بڑا دیا ہے

ہم سے نہالِ گلشن رنگیں نفس ہوئے ہیں

دستِ صبا کو ہم نے رنگِ حنا دیا ہے