Monday, 20 July 2026

جی رہا ہوں گو کہ جینے کا مزا باقی نہیں

 جی رہا ہوں گو کہ جینے کا مزا باقی نہیں

جل رہی شمعِ ہستی اور ضیا باقی نہیں

گوشہ گوشہ جنتِ ارضی کا حبس آلود ہے

سانس کُھل کر لے سکیں اب وہ فضا باقی نہیں

ساتھ اُڑا کر لے گئیں اپنے ہوس کی آندھیاں

نقشِ پا کوئی سرِ دشتِ وفا باقی نہیں

شادمانی میں میسر تھا رفیقوں کا خلوص

غمزدہ ہوں تو کوئی درد آشنا باقی نہیں

دوستوں کی بے رُخی پر اشک افشانی نہ کر

دل کے آئینوں پہ اے عابد جِلا باقی نہیں


ابرار عابد

ابرار حسین عابدی

No comments:

Post a Comment