Sunday, 26 July 2026

بسی خیال میں اب تیری جلوہ گاہ تو ہے

 بسی خیال میں اب تیری جلوہ گاہ تو ہے

بلا سے آنکھ نہیں ہے مگر نگاہ تو ہے

ہزار شکر عنایت کی اک نگاہ تو ہے

جو روز روز نہیں اب وہ گاہ گاہ تو ہے

حریمِ کعبہ کو گر میں پہونچ سکتا

مگر بُتوں ہی سے اک گونہ رسم و راہ تو ہے

یہ ہے مکانِ خدا، اور وہ بِنائے خلیلؑ

بلند کعبہ سے اس دل کی پایگاہ تو ہے

خیالِ کاکلِ مُشکیں میں دل بہلتا ہے

جو چاندنی نہیں گھر میں شبِ سیاہ تو ہے

غبار منزلِ جاناں میں، میں نہیں نہ سہی

مِری مِٹی ہوئی ہستی غبارِ راہ تو ہے


حکیم غبار بھٹی

مشتاق احمد خاں

No comments:

Post a Comment