بسی خیال میں اب تیری جلوہ گاہ تو ہے
بلا سے آنکھ نہیں ہے مگر نگاہ تو ہے
ہزار شکر عنایت کی اک نگاہ تو ہے
جو روز روز نہیں اب وہ گاہ گاہ تو ہے
حریمِ کعبہ کو گر میں پہونچ سکتا
مگر بُتوں ہی سے اک گونہ رسم و راہ تو ہے
یہ ہے مکانِ خدا، اور وہ بِنائے خلیلؑ
بلند کعبہ سے اس دل کی پایگاہ تو ہے
خیالِ کاکلِ مُشکیں میں دل بہلتا ہے
جو چاندنی نہیں گھر میں شبِ سیاہ تو ہے
غبار منزلِ جاناں میں، میں نہیں نہ سہی
مِری مِٹی ہوئی ہستی غبارِ راہ تو ہے
حکیم غبار بھٹی
مشتاق احمد خاں
No comments:
Post a Comment