تب کہیں دے گا اذیت سے رہائی مجھ کو
ہجر کھا جائے گا جب ایک تہائی مجھ کو
اے خُدا مجھ کو بتا پھر میں کہاں جاؤں گا
تیری جنت بھی اگر راس نہ آئی مجھ کو
صرف اُلفت سے یہاں کام نہیں چلتا ہے
اس لیے تھوڑی لگی اپنی کمائی مجھ کو
میں نے جاتے ہوئے پوچھا کہ کوئی کلمۂ خیر
اس نے پھر ایک غزل میری سُنائی مجھ کو
تیرے کہنے پہ چُراتا رہا اس سے بھی نظر
وہ جو اِک بات زمانے نے بتائی مجھ کو
آثم سیال
No comments:
Post a Comment