Monday, 20 July 2026

تب کہیں دے گا اذیت سے رہائی مجھ کو

 تب کہیں دے گا اذیت سے رہائی مجھ کو

ہجر کھا جائے گا جب ایک تہائی مجھ کو

اے خُدا مجھ کو بتا پھر میں کہاں جاؤں گا

تیری جنت بھی اگر راس نہ آئی مجھ کو

صرف اُلفت سے یہاں کام نہیں چلتا ہے

اس لیے تھوڑی لگی اپنی کمائی مجھ کو

میں نے جاتے ہوئے پوچھا کہ کوئی کلمۂ خیر

اس نے پھر ایک غزل میری سُنائی مجھ کو

تیرے کہنے پہ چُراتا رہا اس سے بھی نظر

وہ جو اِک بات زمانے نے بتائی مجھ کو


آثم سیال

No comments:

Post a Comment