Saturday, 18 July 2026

اک یاد سو رہے کو اٹھاتی ہے آج بھی

 اک یاد سو رہے کو اُٹھاتی ہے آج بھی

خُود جاگتی ہے مجھ کو جگاتی ہے آج بھی

یہ کیسی مطربہ ہے جو چُھپ کر جہان سے

دھیمے سُروں میں رات کو گاتی ہے آج بھی

صدیاں گُزر گئیں جسے ڈُوبے ہوئے یہاں

اس کو صدائے شوق بُلاتی ہے آج بھی

جس شہر آرزو کے نشانات مٹ گئے

دل کی نگاہ پھر وہیں جاتی ہے آج بھی

ہونٹوں پہ بار بار زباں پھیرتا تھا جو

اس قافلے کی پیاس رُلاتی ہے آج بھی

پربت کی چوٹیوں پہ وہ روتی ہوئی گھٹا

کس حادثے پہ نِیر بہاتی ہے آج بھی

بس ایک ہی بلا ہے محبت کہیں جسے

وہ پانیوں میں آگ لگاتی ہے آج بھی

ہر روز آ کے خواب میں پازیب کی صدا

دھڑکن ہمارے دل کی بڑھاتی ہے آج بھی

حسرت کوئی تو کھو گیا عُمرِ عزیز کا

جو ننگے پاؤں دوڑتی جاتی ہے آج بھی


اجیت سنگھ حسرت

No comments:

Post a Comment