جی رہا ہوں گو کہ جینے کا مزا باقی نہیں
جل رہی شمعِ ہستی اور ضیا باقی نہیں
گوشہ گوشہ جنتِ ارضی کا حبس آلود ہے
سانس کُھل کر لے سکیں اب وہ فضا باقی نہیں
ساتھ اُڑا کر لے گئیں اپنے ہوس کی آندھیاں
نقشِ پا کوئی سرِ دشتِ وفا باقی نہیں
جی رہا ہوں گو کہ جینے کا مزا باقی نہیں
جل رہی شمعِ ہستی اور ضیا باقی نہیں
گوشہ گوشہ جنتِ ارضی کا حبس آلود ہے
سانس کُھل کر لے سکیں اب وہ فضا باقی نہیں
ساتھ اُڑا کر لے گئیں اپنے ہوس کی آندھیاں
نقشِ پا کوئی سرِ دشتِ وفا باقی نہیں
آج سے پہلے میں کب تیرے لیے انجان تھا
بھولنے والے مجھے، میں تو تری پہچان تھا
دل سے چین آنکھوں سے نیندیں چھین کر سب لے گیا
کس قدر بے رحم تیری یاد کا طوفان تھا
تھی زمانے کی نظر اک نشترِ غم ہر نفس
کچھ ہمارے دل میں ہی احساس کا فقدان تھا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
بڑی عجیب فضا بزم لا مکاں کی تھی
کہ فصل ساجد و مسجود دو کماں کی تھی
چراغِ عرش بریں فرش پر ہوا ضو بار
ملی زمیں کو وہ رفعت جو آسماں کی تھی
سماتے رنگِ جہاں کیا کہ چشمِ دل میں مری
شبیہِ روضۂ سرکارﷺ دو جہاں کی تھی
قوت تو ہے نمو کی مگر قحطِ آب ہے
میں وہ زمیں ہوں جس سے گریزاں سحاب ہے
تعمیر کر رہا ہوں نشیمن خلوص کا
یہ جانتے ہوئے بھی کہ موسم خراب ہے
تحلیل ہے فضاؤں میں یوں بے حسی کا زہر
انساں کو کُھل کے سانس بھی لینا عذاب ہے