Showing posts with label ابرار عابد. Show all posts
Showing posts with label ابرار عابد. Show all posts

Monday, 20 July 2026

جی رہا ہوں گو کہ جینے کا مزا باقی نہیں

 جی رہا ہوں گو کہ جینے کا مزا باقی نہیں

جل رہی شمعِ ہستی اور ضیا باقی نہیں

گوشہ گوشہ جنتِ ارضی کا حبس آلود ہے

سانس کُھل کر لے سکیں اب وہ فضا باقی نہیں

ساتھ اُڑا کر لے گئیں اپنے ہوس کی آندھیاں

نقشِ پا کوئی سرِ دشتِ وفا باقی نہیں

Saturday, 28 February 2026

بھولنے والے مجھے میں تو تری پہچان تھا

 آج سے پہلے میں کب تیرے لیے انجان تھا

بھولنے والے مجھے، میں تو تری پہچان تھا

دل سے چین آنکھوں سے نیندیں چھین کر سب لے گیا

کس قدر بے رحم تیری یاد کا طوفان تھا

تھی زمانے کی نظر اک نشترِ غم ہر نفس

کچھ ہمارے دل میں ہی احساس کا فقدان تھا

Thursday, 5 December 2024

بڑی عجیب فضا بزم لا مکاں کی تھی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


بڑی عجیب فضا بزم لا مکاں کی تھی

کہ فصل ساجد و مسجود دو کماں کی تھی

چراغِ عرش بریں فرش پر ہوا ضو بار

ملی زمیں کو وہ رفعت جو آسماں کی تھی

سماتے رنگِ جہاں کیا کہ چشمِ دل میں مری

شبیہِ روضۂ سرکارﷺ دو جہاں کی تھی

Wednesday, 4 December 2024

قوت تو ہے نمو کی مگر قحط آب ہے

 قوت تو ہے نمو کی مگر قحطِ آب ہے

میں وہ زمیں ہوں جس سے گریزاں سحاب ہے

تعمیر کر رہا ہوں نشیمن خلوص کا

یہ جانتے ہوئے بھی کہ موسم خراب ہے

تحلیل ہے فضاؤں میں یوں بے حسی کا زہر

انساں کو کُھل کے سانس بھی لینا عذاب ہے