Showing posts with label عین تابش. Show all posts
Showing posts with label عین تابش. Show all posts

Friday, 8 April 2022

میری تنہائی کے اعجاز میں شامل ہے وہی

 میری تنہائی کے اعجاز میں شامل ہے وہی

رقص میں ہے دل دیوانہ کہ محفل ہے وہی

یہ الگ بات نہ وہ تمکنت آرا ہے نہ میں

ہے چمن بھی وہی اور شور عنادل ہے وہی

وہی لیلائے سخن اب بھی سراپائے طلسم

میری جاں اب بھی وہی ہے کہ مِرا دل ہے وہی

Sunday, 23 January 2022

کیسے افسوں تھے وہاں کیسے فسانے تھے ادھر

 کیسے افسوں تھے وہاں کیسے فسانے تھے ادھر

زندگی تجھ سے تعلق کے بہانے تھے ادھر

کیا عجب خواب کے خوشبو کے ٹھکانے تھے ادھر

اب تو کچھ یاد نہیں کون زمانے تھے ادھر

یہ نہیں یاد کہ وہ باغ تھا کس کوچے میں

اس قدر یاد ہے کچھ پھول کھلانے تھے ادھر

Monday, 10 January 2022

زمین ایک مدت سے رو رہی ہے

 زمین ایک مدت سے

ہفت آسماں کی طرف سر اٹھائے ہوئے

رو رہی ہے

زمین اپنے آنسو

بہت اپنی ہی کوکھ میں بو رہی ہے

زمیں دل کشادہ ہے کتنی

Saturday, 15 May 2021

پہلے تو شہر ایسا نہ تھا

پہلے تو شہر ایسا نہ تھا


 اک بار چل کر دیکھ لیں

شاید گزشتہ موسموں کا کوئی اک

دھندلا نشاں مل جائے

اور پھر سے فضا شاداب ہو

اجڑا ہوا اک خواب ہو

Friday, 14 May 2021

یہاں کے رنگ بڑے دل پذیر ہوئے ہیں

 یہاں کے رنگ بڑے دل پذیر ہوئے ہیں

دیار عشق کے حاکم فقیر ہوتے ہیں

ہر ایک دل میں تو یہ برچھیاں اترتی نہیں

کوئی کوئی تو نظر کے اسیر ہوتے ہیں

ہجوم بوالہوسی کے گھنے اندھیروں میں

کچھ ایسے غم بھی ہیں جو دستگیر ہوتے ہیں

Thursday, 13 May 2021

تابش یہ بھلا کون سی رت آئی ہے جانی

 تابش یہ بھلا کون سی رت آئی ہے جانی

صحرا میں کوئی ریگ نہ دریا میں ہے پانی

خلوت کدۂ دل پہ زبوں حالیٔ بسیار

ہے صورت گنجینۂ الفاظ و معانی

ہر چند ہوئی اس کے عوض دل کی خرابی

کیا کہیئے کہ بڑھتا رہا شوق ہمہ دانی

Wednesday, 12 May 2021

آوارہ بھٹکتا رہا پیغام کسی کا

 آوارہ بھٹکتا رہا پیغام کسی کا

مکتُوب کسی اور کا تھا نام کسی کا

ہے ایک ہی لمحہ جو کہیں وصل کہیں ہجر

تکلیف کسی کے لیے، آرام کسی کا

کچھ لوگوں کو رخصت بھی کیا کرتی ہے ظالم

رستہ بھی تکا کرتی ہے یہ شام کسی کا

جی رہے ہیں عافیت میں تو ہنر خوابوں کا ہے

 جی رہے ہیں عافیت میں تو ہنر خوابوں کا ہے

اب بھی لگتا ہے کہ یہ سارا سفر خوابوں کا ہے

جی لگا رکھا ہے یوں تعبیر کے اوہام سے

زندگی کیا ہے میاں بس ایک گھر خوابوں کا ہے

رات چلتی رہتی ہے اور جلتا رہتا ہے چراغ

ایک بجھتا ہے تو پھر نقش دگر خوابوں کا ہے