میری تنہائی کے اعجاز میں شامل ہے وہی
رقص میں ہے دل دیوانہ کہ محفل ہے وہی
یہ الگ بات نہ وہ تمکنت آرا ہے نہ میں
ہے چمن بھی وہی اور شور عنادل ہے وہی
وہی لیلائے سخن اب بھی سراپائے طلسم
میری جاں اب بھی وہی ہے کہ مِرا دل ہے وہی
میری تنہائی کے اعجاز میں شامل ہے وہی
رقص میں ہے دل دیوانہ کہ محفل ہے وہی
یہ الگ بات نہ وہ تمکنت آرا ہے نہ میں
ہے چمن بھی وہی اور شور عنادل ہے وہی
وہی لیلائے سخن اب بھی سراپائے طلسم
میری جاں اب بھی وہی ہے کہ مِرا دل ہے وہی
کیسے افسوں تھے وہاں کیسے فسانے تھے ادھر
زندگی تجھ سے تعلق کے بہانے تھے ادھر
کیا عجب خواب کے خوشبو کے ٹھکانے تھے ادھر
اب تو کچھ یاد نہیں کون زمانے تھے ادھر
یہ نہیں یاد کہ وہ باغ تھا کس کوچے میں
اس قدر یاد ہے کچھ پھول کھلانے تھے ادھر
زمین ایک مدت سے
ہفت آسماں کی طرف سر اٹھائے ہوئے
رو رہی ہے
زمین اپنے آنسو
بہت اپنی ہی کوکھ میں بو رہی ہے
زمیں دل کشادہ ہے کتنی
پہلے تو شہر ایسا نہ تھا
اک بار چل کر دیکھ لیں
شاید گزشتہ موسموں کا کوئی اک
دھندلا نشاں مل جائے
اور پھر سے فضا شاداب ہو
اجڑا ہوا اک خواب ہو
یہاں کے رنگ بڑے دل پذیر ہوئے ہیں
دیار عشق کے حاکم فقیر ہوتے ہیں
ہر ایک دل میں تو یہ برچھیاں اترتی نہیں
کوئی کوئی تو نظر کے اسیر ہوتے ہیں
ہجوم بوالہوسی کے گھنے اندھیروں میں
کچھ ایسے غم بھی ہیں جو دستگیر ہوتے ہیں
تابش یہ بھلا کون سی رت آئی ہے جانی
صحرا میں کوئی ریگ نہ دریا میں ہے پانی
خلوت کدۂ دل پہ زبوں حالیٔ بسیار
ہے صورت گنجینۂ الفاظ و معانی
ہر چند ہوئی اس کے عوض دل کی خرابی
کیا کہیئے کہ بڑھتا رہا شوق ہمہ دانی
آوارہ بھٹکتا رہا پیغام کسی کا
مکتُوب کسی اور کا تھا نام کسی کا
ہے ایک ہی لمحہ جو کہیں وصل کہیں ہجر
تکلیف کسی کے لیے، آرام کسی کا
کچھ لوگوں کو رخصت بھی کیا کرتی ہے ظالم
رستہ بھی تکا کرتی ہے یہ شام کسی کا
جی رہے ہیں عافیت میں تو ہنر خوابوں کا ہے
اب بھی لگتا ہے کہ یہ سارا سفر خوابوں کا ہے
جی لگا رکھا ہے یوں تعبیر کے اوہام سے
زندگی کیا ہے میاں بس ایک گھر خوابوں کا ہے
رات چلتی رہتی ہے اور جلتا رہتا ہے چراغ
ایک بجھتا ہے تو پھر نقش دگر خوابوں کا ہے