Wednesday, 12 May 2021

جی رہے ہیں عافیت میں تو ہنر خوابوں کا ہے

 جی رہے ہیں عافیت میں تو ہنر خوابوں کا ہے

اب بھی لگتا ہے کہ یہ سارا سفر خوابوں کا ہے

جی لگا رکھا ہے یوں تعبیر کے اوہام سے

زندگی کیا ہے میاں بس ایک گھر خوابوں کا ہے

رات چلتی رہتی ہے اور جلتا رہتا ہے چراغ

ایک بجھتا ہے تو پھر نقش دگر خوابوں کا ہے

رنگ بازارِ خرد کا اور یہ میرا جنوں

اک ستارہ گنبد افلاک پر خوابوں کا ہے

رات کا دریا اور اس میں ایک طوفان مہیب

جاگنا ہے دیر تک یہ بھی اثر خوابوں کا ہے

ورنہ کٹ جاتے ہیں روز و شب زمانے کی طرح

جو بھی تھوڑا یا بہت سمجھو تو ڈر خوابوں کا ہے


عین تابش

No comments:

Post a Comment