Wednesday, 12 May 2021

درون حلقۂ زنجیر ہوں میں

 درونِ حلقۂ زنجیر ہوں میں

شکستہ خواب کی تعبیر ہوں میں

مجھے حیرت سے یوں وہ تک رہا ہے

کہ جیسے میں نہیں تصویر ہوں میں

مِری باتیں تو زہریلی بہت ہیں

مگر تریاق کی تاثیر ہوں میں

میں زندہ ہوں حصارِ بے حِسی میں

محبت کی نئی تفسیر ہوں میں

اک آئینہ بھی ہوں اور عکس بھی ہوں

کہ شہرِ سنگ کا رہگیر ہوں میں

نمازِ شب کا سجدہ ہوں تصور

اذانِ صبح کی تکبیر ہوں میں


یعقوب تصور

No comments:

Post a Comment