ذکرِ توبہ چھوڑ کر اب جام کی باتیں کریں
اہلِ غم کو چاہیے کچھ کام کی باتیں کریں
چھیڑ کر اے ہم نفس! دل کے شکستہ ساز سے
ابتدائے عشق میں، انجام کی باتیں کریں
آؤ مل کر آج ہم بھی اے اسیرانِ قفس
انقلابِ صبحِ خوں آشام کی باتیں کریں
ذکرِ توبہ چھوڑ کر اب جام کی باتیں کریں
اہلِ غم کو چاہیے کچھ کام کی باتیں کریں
چھیڑ کر اے ہم نفس! دل کے شکستہ ساز سے
ابتدائے عشق میں، انجام کی باتیں کریں
آؤ مل کر آج ہم بھی اے اسیرانِ قفس
انقلابِ صبحِ خوں آشام کی باتیں کریں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
نور سراپا نور مجسم صلی اللہ علیہ و سلم
شافع اُمت، رحمت عالم صلی اللہ علیہ و سلم
شانِ نبوت لے کر آئے، شمع ہدایت لے کر آئے
اُمت کے دم ساز و ہمدم صلی اللہ علیہ و سلم
کالی کملیا اوڑھنے والے، ظلمت کا رخ موڑنے والے
ہادئ دیں، انسانِ مکرم، صلی اللہ علیہ و سلم
شامِ غم آنکھوں سے آنسو آستیں پر گِر پڑے
یا کہ تھے دامن میں کچھ موتی زمیں پر گر پڑے
پی کے ہم بیرونِ مے خانہ زمیں پر گر پڑے
ہم کو گِرنا تھا کہیں اور ہم کہیں پر گر پڑے
سُوئے منزل تیزگامی تھی کہ تھا وحشت کا جوش
کیا خبر ہم کب بڑھے اور کب زمیں پر گر پڑے