Showing posts with label وقار احمد. Show all posts
Showing posts with label وقار احمد. Show all posts

Thursday, 1 August 2024

گھرانے سے تیرے طہارت جڑی ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


فضیلت کی خاطر مدارت جُڑی ہے

گھرانے سے تیرے طہارت جُڑی ہے 

تِرےؑ باباﷺ کا روضہ رشکِ خلائق

فرشتوں کی ہر پل زیارت جُڑی ہے 

ہے ممتاز رکھنے کو بس وہ ہی کافی

جو اِک الہ کی عبارت جُڑی ہے 

Wednesday, 29 November 2023

رنج کا مارا ہوا میں

  رنج


رنج کا مارا ہُوا میں

زندگی کے پیچ و تاب میں گُم

نا جانے کِن خیالوں میں ڈُوب کر

اکثر تیری یادوں کے دِیے

جلا کر بُجھا دیتا ہوں


وقار احمد

Thursday, 23 November 2023

شب فرقت مصیبت ہے نہیں تو

 شبِ فُرقت مصیبت ہے، نہیں تو

یہ آہیں کیا شکایت ہے، نہیں تو 

نظر پھر کیوں نہیں ہٹتی ہے اُن سے

اُنہیں پانے کی حسرت ہے، نہیں تو 

اُتاروں عشق کے دریا میں کشتی

تو کیا خود سے عداوت ہے، نہیں تو

Wednesday, 22 November 2023

تیری چوکھٹ پہ سر جھکاؤں کیا

تیری چوکھٹ پہ سر جھکاؤں کیا

اپنی نظروں سے گِر ہی جاؤں کیا 

جو مجھے دوستوں سے مِلتا رہا

زخم غیروں کو وہ دکھاؤں کیا 

شعر میرے مجھے کریں رُسوا

اب غزل کوئی گنگناؤں کیا؟

Tuesday, 21 November 2023

لگتا کلام رب کا یہ عنوان نعت ہے

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


 لگتا کلام رب کا یہ عنوانِ نعت ہے

قرآن رب کا رب کی قسم شانِ نعت ہے

نعتوں کا سلسلہ نہیں رُکنے ہے والا یہ

اعلان اُس جہاں کا بھی اعلانِ نعت ہے

محوِ درود رب ہے فرشتے بھی ساتھ ہیں

گویا کہ ہر گھڑی یہاں فیضانِ نعت ہے

Monday, 3 May 2021

جب خیالوں میں مرے شیریں مقال آتے ہیں

 جب خیالوں میں مِرے شیریں مقال آتے ہیں

میرے شعروں میں مدھرتا کے ابال آتے ہیں

گونگے پڑ جاتے ہیں الفاظ مِری غزلوں کے

اس کی آنکھوں کو سخن ایسے کمال آتے ہیں

دونوں جانب ہی تِرا ہجر لکھا ہے جس پر

آؤ اس سِکے کو دریا میں ہی ڈال آتے ہیں