عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
فضیلت کی خاطر مدارت جُڑی ہے
گھرانے سے تیرے طہارت جُڑی ہے
تِرےؑ باباﷺ کا روضہ رشکِ خلائق
فرشتوں کی ہر پل زیارت جُڑی ہے
ہے ممتاز رکھنے کو بس وہ ہی کافی
جو اِک الہ کی عبارت جُڑی ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
فضیلت کی خاطر مدارت جُڑی ہے
گھرانے سے تیرے طہارت جُڑی ہے
تِرےؑ باباﷺ کا روضہ رشکِ خلائق
فرشتوں کی ہر پل زیارت جُڑی ہے
ہے ممتاز رکھنے کو بس وہ ہی کافی
جو اِک الہ کی عبارت جُڑی ہے
رنج
رنج کا مارا ہُوا میں
زندگی کے پیچ و تاب میں گُم
نا جانے کِن خیالوں میں ڈُوب کر
اکثر تیری یادوں کے دِیے
جلا کر بُجھا دیتا ہوں
وقار احمد
شبِ فُرقت مصیبت ہے، نہیں تو
یہ آہیں کیا شکایت ہے، نہیں تو
نظر پھر کیوں نہیں ہٹتی ہے اُن سے
اُنہیں پانے کی حسرت ہے، نہیں تو
اُتاروں عشق کے دریا میں کشتی
تو کیا خود سے عداوت ہے، نہیں تو
تیری چوکھٹ پہ سر جھکاؤں کیا
اپنی نظروں سے گِر ہی جاؤں کیا
جو مجھے دوستوں سے مِلتا رہا
زخم غیروں کو وہ دکھاؤں کیا
شعر میرے مجھے کریں رُسوا
اب غزل کوئی گنگناؤں کیا؟
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
لگتا کلام رب کا یہ عنوانِ نعت ہے
قرآن رب کا رب کی قسم شانِ نعت ہے
نعتوں کا سلسلہ نہیں رُکنے ہے والا یہ
اعلان اُس جہاں کا بھی اعلانِ نعت ہے
محوِ درود رب ہے فرشتے بھی ساتھ ہیں
گویا کہ ہر گھڑی یہاں فیضانِ نعت ہے
جب خیالوں میں مِرے شیریں مقال آتے ہیں
میرے شعروں میں مدھرتا کے ابال آتے ہیں
گونگے پڑ جاتے ہیں الفاظ مِری غزلوں کے
اس کی آنکھوں کو سخن ایسے کمال آتے ہیں
دونوں جانب ہی تِرا ہجر لکھا ہے جس پر
آؤ اس سِکے کو دریا میں ہی ڈال آتے ہیں