جب خیالوں میں مِرے شیریں مقال آتے ہیں
میرے شعروں میں مدھرتا کے ابال آتے ہیں
گونگے پڑ جاتے ہیں الفاظ مِری غزلوں کے
اس کی آنکھوں کو سخن ایسے کمال آتے ہیں
دونوں جانب ہی تِرا ہجر لکھا ہے جس پر
آؤ اس سِکے کو دریا میں ہی ڈال آتے ہیں
یہ تِرے عشق کی نسبت ہے کہ ہم شاعر ہیں
سو تِرے در پہ لیے شعروں کے تھال آتے ہیں
میرا محبوبِ نظر حسن کا حاتم ہے وقار
اس کی آنکھوں کی زیارت کو غزال آتے ہیں
وقار احمد
No comments:
Post a Comment