بہت دن سے تمہیں دیکھا نہیں تھا
بدن اتنا کبھی سونا نہیں تھا
وہ کیسی شب تھی جو کالی نہیں تھی
وہ کیسا دن تھا جو اجلا نہیں تھا
یہ ویرانہ نہ تھا ویران اتنا
یہ صحرا اس قدر صحرا نہیں تھا
بہت دن سے تمہیں دیکھا نہیں تھا
بدن اتنا کبھی سونا نہیں تھا
وہ کیسی شب تھی جو کالی نہیں تھی
وہ کیسا دن تھا جو اجلا نہیں تھا
یہ ویرانہ نہ تھا ویران اتنا
یہ صحرا اس قدر صحرا نہیں تھا
خوابوں کی کِرچیاں مِری مٹھی میں بھر نہ جائے
آئندہ لمحہ اب کے بھی یوں ہی گزر نہ جائے
رسی لٹک رہی ہے گلے کو نہ بھینچ لے
خنجر چمک رہا ہے بدن میں اتر نہ جائے
منہ پھاڑتی ہیں گھر کی دراڑیں ادھر ادھر
اک قہقہہ کہ جیسے فضا میں بکھر نہ جائے
کچھ اور دن ابھی اس جا قیام کرنا تھا
یہاں چراغ وہاں پر ستارہ دھرنا تھا
وہ رات نیند کی دہلیز پر تمام ہوئی
ابھی تو خواب پہ اک اور خواب دھرنا تھا
اگر رسا میں نہ تھا وہ بھرا بھرا سا بدن
رگِ خیال سے اس کو طلوع کرنا تھا
دل کے نزدیک تو سایا بھی نہیں ہے کوئی
اس خرابے میں تو آیا بھی نہیں ہے کوئی
ہر سراغ اپنی جگہ ریت میں معدوم ہوا
دور تک نقشِ کفِ پا بھی نہیں ہے کوئی
اپنے سُوکھے ہوئے گُلدان کا غم ہے مجھ کو
آنکھ میں اشک کا قطرہ بھی نہیں ہے کوئی
میں خود سے دور تھا اور مجھ سے دور تھا وہ بھی
بہاؤ تیز تھا،۔ اور زد میں آ گیا وہ بھی
چھُوا ہی تھا کہ فضا میں بکھر کے پھیل گیا
مِری ہی طرح دھوئیں کی لکیر تھا وہ بھی
یہ دیکھنے کے لیے پھر پلٹ نہ جاؤں کہیں
میں گُم نہ ہو گیا جب تک کھڑا رہا وہ بھی