Showing posts with label عتیق اللہ. Show all posts
Showing posts with label عتیق اللہ. Show all posts

Wednesday, 16 March 2022

بہت دن سے تمہیں دیکھا نہیں تھا

 بہت دن سے تمہیں دیکھا نہیں تھا 

بدن اتنا کبھی سونا نہیں تھا 

وہ کیسی شب تھی جو کالی نہیں تھی 

وہ کیسا دن تھا جو اجلا نہیں تھا 

یہ ویرانہ نہ تھا ویران اتنا 

یہ صحرا اس قدر صحرا نہیں تھا 

Saturday, 19 February 2022

خوابوں کی کرچیاں مری مٹھی میں بھر نہ جائے

 خوابوں کی کِرچیاں مِری مٹھی میں بھر نہ جائے

آئندہ لمحہ اب کے بھی یوں ہی گزر نہ جائے

رسی لٹک رہی ہے گلے کو نہ بھینچ لے

خنجر چمک رہا ہے بدن میں اتر نہ جائے

منہ پھاڑتی ہیں گھر کی دراڑیں ادھر ادھر

اک قہقہہ کہ جیسے فضا میں بکھر نہ جائے

Thursday, 10 February 2022

کچھ اور دن ابھی اس جا قیام کرنا تھا

 کچھ اور دن ابھی اس جا قیام کرنا تھا

یہاں چراغ وہاں پر ستارہ دھرنا تھا

وہ رات نیند کی دہلیز پر تمام ہوئی

ابھی تو خواب پہ اک اور خواب دھرنا تھا

اگر رسا میں نہ تھا وہ بھرا بھرا سا بدن

رگِ خیال سے اس کو طلوع کرنا تھا

Saturday, 10 April 2021

دل کے نزدیک تو سایہ بھی نہیں ہے کوئی

 دل کے نزدیک تو سایا بھی نہیں ہے کوئی

اس خرابے میں تو آیا بھی نہیں ہے کوئی

ہر سراغ اپنی جگہ ریت میں معدوم ہوا

دور تک نقشِ کفِ پا بھی نہیں ہے کوئی

اپنے سُوکھے ہوئے گُلدان کا غم ہے مجھ کو

آنکھ میں اشک کا قطرہ بھی نہیں ہے کوئی

Wednesday, 31 March 2021

میں خود سے دور تھا اور مجھ سے دور تھا وہ بھی

 میں خود سے دور تھا اور مجھ سے دور تھا وہ بھی

بہاؤ تیز تھا،۔ اور زد میں آ گیا وہ بھی

چھُوا ہی تھا کہ فضا میں بکھر کے پھیل گیا

مِری ہی طرح دھوئیں کی لکیر تھا وہ بھی

یہ دیکھنے کے لیے پھر پلٹ نہ جاؤں کہیں

میں گُم نہ ہو گیا جب تک کھڑا رہا وہ بھی