Thursday, 10 February 2022

کچھ اور دن ابھی اس جا قیام کرنا تھا

 کچھ اور دن ابھی اس جا قیام کرنا تھا

یہاں چراغ وہاں پر ستارہ دھرنا تھا

وہ رات نیند کی دہلیز پر تمام ہوئی

ابھی تو خواب پہ اک اور خواب دھرنا تھا

اگر رسا میں نہ تھا وہ بھرا بھرا سا بدن

رگِ خیال سے اس کو طلوع کرنا تھا

نگاہ اور، چراغ اور، یہ اثاثۂ جاں

تمام ہوتی ہوئی شب کے نام کرنا تھا

گریز ہوتا چلا جا رہا تھا مجھ سے وہ

اور ایک پل کے سِرے پر مجھے ٹھہرنا تھا


عتیق اللہ

No comments:

Post a Comment