ذات کا طوق اترنے میں نہیں آتا ہے
عشق وہ عدل جو کرنے میں نہیں آتا ہے
چار صدیوں سے تمنائیں درآمد کی ہیں
دل وہ کاسہ ہے جو بھرنے میں نہیں آتا ہے
زندگی اپنی شرائط پہ گزاری تو لگا
اس قدر لطف تو مرنے میں نہیں آتا ہے
ڈھانپ لینا بھی روایت ہے مگر چہرے پر
کرب اتنا ہے کہ پَرنے میں نہیں آتا ہے
عصر کے سائے بھی قامت میں ملانے والو
کیا یہ پھیلاؤ بکھرنے میں نہیں آتا ہے
مدثر عباس
No comments:
Post a Comment