Thursday, 10 February 2022

ذات کا طوق اترنے میں نہیں آتا ہے

 ذات کا طوق اترنے میں نہیں آتا ہے

عشق وہ عدل جو کرنے میں نہیں آتا ہے

چار صدیوں سے تمنائیں درآمد کی ہیں

دل وہ کاسہ ہے جو بھرنے میں نہیں آتا ہے

زندگی اپنی شرائط پہ گزاری تو لگا

اس قدر لطف تو مرنے میں نہیں آتا ہے

ڈھانپ لینا بھی روایت ہے مگر چہرے پر

کرب اتنا ہے کہ پَرنے میں نہیں آتا ہے

عصر کے سائے بھی قامت میں ملانے والو

کیا یہ پھیلاؤ بکھرنے میں نہیں آتا ہے


مدثر عباس

No comments:

Post a Comment