تیرے میرے خواب جُدا
خوابوں کے اسباب جدا
میرے دُشمن تیرے دوست
دونوں کے احباب جدا
تیرا میرا ساتھ ہے یوں
جُوں صحرا سے آب جدا
تیرے میرے خواب جُدا
خوابوں کے اسباب جدا
میرے دُشمن تیرے دوست
دونوں کے احباب جدا
تیرا میرا ساتھ ہے یوں
جُوں صحرا سے آب جدا
خنجر کو رگ جاں سے گزرنے نہیں دے گا
وہ شخص مجھے چین سے مرنے نہیں دے گا
پھر کوئی نئی آس وہ دے جائے گا دل کو
ٹوٹے ہوئے شیشے کو بکھرنے نہیں دے گا
دن ڈھلتے نکل آئے گا پھر یاد کا سورج
سایہ مِرے آنگن میں اترنے نہیں دے گا
زندگی رشتوں میں سمٹے گی بکھر جائے گی
ہاں! تِرے نام سے جڑ کر یہ سنور جائے گی
تجھ سے ملنے کا نشہ ہے بھلے خوابوں میں سہی
صبح ہوتے ہی خماری یہ اتر جائے گی
بیچ دن رات کے ایک فاصلہ لازم ہے سدا
چاندنی دھوپ سے ٹکرائے گی مر جائے گی
آنکھ میں آنسو ٹھہرا ہے
دل پر غم کا پہرا ہے
اک دن بھر ہی جائے گا
گھاؤ جو دل میں گہرا ہے
میری چاروں سمت ابھی
رنج و الم کا صحرا ہے
اک تُو ہی برباد نہیں
کوئی یہاں آباد نہیں
میرا دُکھ ہے میں جانوں
تجھ سے تو فریاد نہیں
غم کی ماری دُنیا میں
کون ہے جو ناشاد نہیں