اس دنیا میں تنہا ہوں
میں بے نام سا چہرہ ہوں
کیسی باتیں کرتے ہو
میں بھی تمہارا حصہ ہوں
اس کی گلی تک جو جائے
میں اک ایسا رستا ہوں
اس دنیا میں تنہا ہوں
میں بے نام سا چہرہ ہوں
کیسی باتیں کرتے ہو
میں بھی تمہارا حصہ ہوں
اس کی گلی تک جو جائے
میں اک ایسا رستا ہوں
ہے کوئی اور بھی جہان میں کیا
میں نہیں ہوں تِرے گُمان میں کیا
تُو نے فتراک ساتھ تو رکھا
تیر بھی ہے تِری کمان میں کیا
ایک سایا تھا دل میں وہ بھی بُجھا
رہ گیا ہے اب اس مکان میں کیا
ذہن کے کینوس کو پھیلا کر
تُو ہر اک مسئلے پہ سوچا کر
میرے کاندھے پہ آج اُداسی پھر
سو گئی اپنے بال بکھرا کر
یوں بچھڑنا تو کوئی بات نہیں
خوب رویا تھا وہ بھی گھر جا کر
دیوار پھلانگ کر آیا
سورج کا آدھا سایا
ناگن نے پلٹ پلٹ کر
دیر تلک مجھ کو ڈرایا
تھا کوئی اور کھنڈر میں
جس نے وہ چراغ جلایا
سفر کی حد تھی جو رات تھی
کہیں آگے ارض ثبات تھی
جو اندھیرا تھا بے کنار تھا
کوئی روشنی بے جہات تھی
جو سبھی دیار گِرا گئی
وہی بادِ شہر صفات تھی
اس کے چہرے کو دیکھتا ہوں میں
اور اک آہ کھینچتا ہوں میں
اپنے ماضی کی خستہ گلیوں میں
اس کی یادوں سے کھیلتا ہوں میں
کتنے پیڑوں نے میرا پوچھا ہے
دھوپ سے روز پوچھتا ہوں میں
کاغذی تھیں جلا کے رکھ دی ہیں
ساری چڑیاں اُڑا کے رکھ دی ہیں
تجھ کو اب دل سے دیکھنا ہے مجھے
اپنی آنکھیں بجھا کے رکھ دی ہیں
اب وہ مقصودِ آرزو نہ رہا
خواہشیں سب دبا کے رکھ دی ہیں