Showing posts with label عمر فرحت. Show all posts
Showing posts with label عمر فرحت. Show all posts

Wednesday, 4 January 2023

اس دنیا میں تنہا ہوں

 اس دنیا میں تنہا ہوں

میں بے نام سا چہرہ ہوں

کیسی باتیں کرتے ہو

میں بھی تمہارا حصہ ہوں

اس کی گلی تک جو جائے

میں اک ایسا رستا ہوں

Sunday, 8 August 2021

ہے کوئی اور بھی جہان میں کیا

 ہے کوئی اور بھی جہان میں کیا 

میں نہیں ہوں تِرے گُمان میں کیا 

تُو نے فتراک ساتھ تو رکھا 

تیر بھی ہے تِری کمان میں کیا 

ایک سایا تھا دل میں وہ بھی بُجھا 

رہ گیا ہے اب اس مکان میں کیا 

Saturday, 7 August 2021

ذہن کے کینوس کو پھیلا کر

 ذہن کے کینوس کو پھیلا کر

تُو ہر اک مسئلے پہ سوچا کر

میرے کاندھے پہ آج اُداسی پھر

سو گئی اپنے بال بکھرا کر

یوں بچھڑنا تو کوئی بات نہیں

خوب رویا تھا وہ بھی گھر جا کر

Thursday, 5 August 2021

دیوار پھلانگ کر آیا

 دیوار پھلانگ کر آیا

سورج کا آدھا سایا

ناگن نے پلٹ پلٹ کر

دیر تلک مجھ کو ڈرایا

تھا کوئی اور کھنڈر میں

جس نے وہ چراغ جلایا

Wednesday, 4 August 2021

سفر کی حد تھی جو رات تھی

 سفر کی حد تھی جو رات تھی

کہیں آگے ارض ثبات تھی

جو اندھیرا تھا بے کنار تھا

کوئی روشنی بے جہات تھی

جو سبھی دیار گِرا گئی

وہی بادِ شہر صفات تھی

Saturday, 29 May 2021

اس کے چہرے کو دیکھتا ہوں میں

 اس کے چہرے کو دیکھتا ہوں میں

اور اک آہ کھینچتا ہوں میں

اپنے ماضی کی خستہ گلیوں میں

اس کی یادوں سے کھیلتا ہوں میں

کتنے پیڑوں نے میرا پوچھا ہے

دھوپ سے روز پوچھتا ہوں میں

Tuesday, 25 May 2021

کاغذی تھیں جلا کے رکھ دی ہیں

 کاغذی تھیں جلا کے رکھ دی ہیں

ساری چڑیاں اُڑا کے رکھ دی ہیں

تجھ کو اب دل سے دیکھنا ہے مجھے

اپنی آنکھیں بجھا کے رکھ دی ہیں

اب وہ مقصودِ آرزو نہ رہا

خواہشیں سب دبا کے رکھ دی ہیں