عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ادھورا لوٹ کے آنا پڑا مدینے سے
نہ ساتھ آیا مِرے دل مِرا مدینے سے
وہاں قیام سخاوت کے تاجدار کا ہے
ملے گا سب کو طلب سے سوا مدینے سے
عظیم خلق پہ فائز مرے رسولِ کریمﷺ
پھر ایک بار ہو لطف و عطا مدینے سے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ادھورا لوٹ کے آنا پڑا مدینے سے
نہ ساتھ آیا مِرے دل مِرا مدینے سے
وہاں قیام سخاوت کے تاجدار کا ہے
ملے گا سب کو طلب سے سوا مدینے سے
عظیم خلق پہ فائز مرے رسولِ کریمﷺ
پھر ایک بار ہو لطف و عطا مدینے سے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
سب رنج و الم دل سے بھلانے کے لیے آ
اے یادِ نبیﷺ مجھ کو رلانے کے لیے آ
اے گنبدِ خضرا کے ضیاء بار تصور
تُو پیاس نگاہوں کی بجھانے کے لیے آ
آواز لگاتا ہوں تجھے میری قضا سن
طیبہ میں مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
انؐ کی الفت کا جسے رتبہ سمجھ میں آیا
انؐ پہ مرنا ہی اسے جینا، سمجھ میں آیا
آپؐ کی آل سے جس نے بھی محبت کی ھے
پیاس کا معنی اسے دریا سمجھ میں آیا
چودھویں شب کو ہوا چاند مکمل تو مجھے
انؐ کے تلووں کا حسیں نقشہ سمجھ میں آیا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
دہائی دیتی ہے سرکارﷺ میری چشمِ نم
حضور مجھ پہ توجہ حضورﷺ مجھ پہ کرم
علیؓ و زہراؓ کی حرمت کا واسطہ آقا ﷺ
حسنؓ حسینؓ کی الفت کا واسطہ آقاﷺ
تمام اہلِ محبت کا واسطہ آقاﷺ
یہ استغاثہ ہو مقبول جو کیا ہے رقم
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جب نبی زادےؑ کے ایثار کو پہچان گیا
ذہن سے تب مِرے اندیشۂ نقصان گیا
واسطہ دے تو سہی ابنِ علیؑ کا اک بار
میں نے تو جب بھی دیا میرا خدا مان گیا
وعدۂ عالمِ ارواح مجھے یاد آیا
"کربلا آج مِرا تیری طرف دھیان گیا"