Showing posts with label یعقوب آسی. Show all posts
Showing posts with label یعقوب آسی. Show all posts

Thursday, 9 November 2023

بھری محفل میں تنہا بولتا ہے

 بھری محفل میں تنہا بولتا ہے

وہ اپنے قد سے اونچا بولتا ہے

مہِ کامل کو چُپ سی لگ گئی ہے

مِرے گھر میں اندھیرا بولتا ہے

مِرے افکار کی موجیں رواں ہیں

مِرے لہجے میں دریا بولتا ہے

Friday, 30 June 2023

یہ میں کیسے نگر میں آ گیا ہوں

 یہ میں کیسے نگر میں آ گیا ہوں

کہ خود کو اجنبی سا لگ رہا ہوں

یہ تنہائی ہے کیوں میرا مقدر

یہ تنہائی میں اکثر سوچتا ہوں

سرِ دشتِ تخیل یہ خموشی

میں اپنی ہی صدا سے ڈر گیا ہوں

Saturday, 26 February 2022

کیا کہا وہ مری تلاش میں ہے

 کیا کہا وہ مری تلاش میں ہے

وہ کسی اور کی تلاش میں ہے

کوئی دل جو کہ اس کے لائق ہو

درد کی تازگی تلاش میں ہے

ہو نہ جائے مِری سماعت گم

تیری آواز کی تلاش میں ہے

Friday, 4 February 2022

سپنے تو کجا دیکھیے کیا سو بھی سکیں گے

 سپنے تو کجا دیکھیے کیا سو بھی سکیں گے

مانوس جدائی سے تری ہو بھی سکیں گے

کم مائیگیٔ حرفِ تشکر مجھے بتلا

یہ قرض محبت کے ادا ہو بھی سکیں گے

جڑ سے تو اکھاڑیں گے چلو بوڑھے شجر کو

ننھا سا نہال اس کی جگہ بو بھی سکیں گے

Wednesday, 26 January 2022

مری حیات کی لکھی گئی کتاب عجیب

 مِری حیات کی لکھی گئی کتاب عجیب

متن غریب ہے اس کا تو انتساب عجیب

کسی کے ہجر نے کانٹے خیال میں بوئے

حصارِ خار میں مہکے مگر گلاب عجیب

ازل کے حبس کدوں میں چلی ہوا تازہ

نگاہِ ناز نے وا کر دئیے ہیں باب عجیب

Thursday, 12 August 2021

ابھی تو ہاریوں کی بیویاں بکتی ہیں قرضوں میں

 ابھی تو ہاریوں کی بیویاں بِکتی ہیں قرضوں میں

ابھی تک بیٹیوں کی عزتیں بٹتی ہیں ٹکڑوں میں

چلو یارو! بیابانوں میں کنجِِ عافیت ڈھونڈیں

درندے دندناتے پھر رہے ہیں سارے شہروں میں

زمانے بھر میں اس جیسا تہی داماں کوئی ہو گا؟

کہ جس نے بیچ دی اپنی حمیّت چند سکوں میں

Thursday, 25 March 2021

تھی کہاں شمع کہ پروانہ بھی آتا کوئی

 تھی کہاں شمع کہ پروانہ بھی آتا کوئی

شہرِ ظلمات میں جگنو بھی نہ چمکا کوئی

چوٹ لگتی ہے تو لگتی ہے اسی گھاؤ پر

ہائے اس بات کو اب تک نہیں سمجھا کوئی

بارش اتنی تو نہیں تھی کہ ڈبو ہی دیتی

میرے اندر سے اُمڈ آیا تھا دریا کوئی

Sunday, 21 March 2021

کانٹے اسی کے توڑئیے نشتر میں ڈھالئے

 کانٹے اسی کے توڑئیے، نشتر میں ڈھالئے

خونِ رگِ گلاب سے خوشبو نکالئے

حیراں تو اس لئے ہوں، مِرے کس گناہ پر

نفرت نے دل میں آپ کے ڈیرے جما لئے

طاقت کے بل پہ آپ کی شہرت بہت ہوئی

کمزریوں کو میری بھی، لیجے اچھالئے

بڑی باریک نظر رکھتے ہیں اچھے پاگل

 بڑی باریک نظر رکھتے ہیں اچھے پاگل

پاگلو! بات کی تہہ کو نہیں پہنچے پاگل

اپنے اطوار سے قطعاً نہیں لگتے پاگل

ہم نے دیکھے ہیں تِرے شہر میں ایسے پاگل

کبھی تو اپنے ہی افکار سے خوف آتا ہے

کبھی ہم خود کو سمجھ لیتے ہیں جیسے پاگل

Saturday, 20 March 2021

کاٹ کی تلوار کی باتیں کریں

 کاٹ کی، تلوار کی باتیں کریں

دوست ایسے پیار کی باتیں کریں

دردِ گُردہ کا مجرب ہے علاج

پہلوئے دِلدار کی باتیں کریں

ہم گریباں چاک، دامن تار تار

جبہ و دستار کی باتیں کریں

مسکرا کر دیکھئے تو اک ذرا

 مسکرا کر دیکھیے تو اک ذرا

دیکھیے تو آپ کا جاتا ہے کیا

مجھ سے لوہا مَس ہوا سونا ہوا

میں کہ پارس تھا سو پتھر ہی رہا

جو نہ سہہ پائے عذابِ آگہی

اس کے حق میں بے خبر رہنا بھلا

Friday, 19 March 2021

کئی یعقوب اب بھی زندہ ہیں

 منتظر ہیں مگر قمیصوں کے


کئی یعقوب اب بھی زندہ ہیں

جن کی آنکھوں کے گہرے حلقوں میں

آس کے دِیپ جھِلملاتے ہیں

جیسے پانی میں چاندنی جھلکے

جیسے اشکوں کی تیز بارش میں