بھری محفل میں تنہا بولتا ہے
وہ اپنے قد سے اونچا بولتا ہے
مہِ کامل کو چُپ سی لگ گئی ہے
مِرے گھر میں اندھیرا بولتا ہے
مِرے افکار کی موجیں رواں ہیں
مِرے لہجے میں دریا بولتا ہے
بھری محفل میں تنہا بولتا ہے
وہ اپنے قد سے اونچا بولتا ہے
مہِ کامل کو چُپ سی لگ گئی ہے
مِرے گھر میں اندھیرا بولتا ہے
مِرے افکار کی موجیں رواں ہیں
مِرے لہجے میں دریا بولتا ہے
یہ میں کیسے نگر میں آ گیا ہوں
کہ خود کو اجنبی سا لگ رہا ہوں
یہ تنہائی ہے کیوں میرا مقدر
یہ تنہائی میں اکثر سوچتا ہوں
سرِ دشتِ تخیل یہ خموشی
میں اپنی ہی صدا سے ڈر گیا ہوں
کیا کہا وہ مری تلاش میں ہے
وہ کسی اور کی تلاش میں ہے
کوئی دل جو کہ اس کے لائق ہو
درد کی تازگی تلاش میں ہے
ہو نہ جائے مِری سماعت گم
تیری آواز کی تلاش میں ہے
سپنے تو کجا دیکھیے کیا سو بھی سکیں گے
مانوس جدائی سے تری ہو بھی سکیں گے
کم مائیگیٔ حرفِ تشکر مجھے بتلا
یہ قرض محبت کے ادا ہو بھی سکیں گے
جڑ سے تو اکھاڑیں گے چلو بوڑھے شجر کو
ننھا سا نہال اس کی جگہ بو بھی سکیں گے
مِری حیات کی لکھی گئی کتاب عجیب
متن غریب ہے اس کا تو انتساب عجیب
کسی کے ہجر نے کانٹے خیال میں بوئے
حصارِ خار میں مہکے مگر گلاب عجیب
ازل کے حبس کدوں میں چلی ہوا تازہ
نگاہِ ناز نے وا کر دئیے ہیں باب عجیب
ابھی تو ہاریوں کی بیویاں بِکتی ہیں قرضوں میں
ابھی تک بیٹیوں کی عزتیں بٹتی ہیں ٹکڑوں میں
چلو یارو! بیابانوں میں کنجِِ عافیت ڈھونڈیں
درندے دندناتے پھر رہے ہیں سارے شہروں میں
زمانے بھر میں اس جیسا تہی داماں کوئی ہو گا؟
کہ جس نے بیچ دی اپنی حمیّت چند سکوں میں
تھی کہاں شمع کہ پروانہ بھی آتا کوئی
شہرِ ظلمات میں جگنو بھی نہ چمکا کوئی
چوٹ لگتی ہے تو لگتی ہے اسی گھاؤ پر
ہائے اس بات کو اب تک نہیں سمجھا کوئی
بارش اتنی تو نہیں تھی کہ ڈبو ہی دیتی
میرے اندر سے اُمڈ آیا تھا دریا کوئی
کانٹے اسی کے توڑئیے، نشتر میں ڈھالئے
خونِ رگِ گلاب سے خوشبو نکالئے
حیراں تو اس لئے ہوں، مِرے کس گناہ پر
نفرت نے دل میں آپ کے ڈیرے جما لئے
طاقت کے بل پہ آپ کی شہرت بہت ہوئی
کمزریوں کو میری بھی، لیجے اچھالئے
بڑی باریک نظر رکھتے ہیں اچھے پاگل
پاگلو! بات کی تہہ کو نہیں پہنچے پاگل
اپنے اطوار سے قطعاً نہیں لگتے پاگل
ہم نے دیکھے ہیں تِرے شہر میں ایسے پاگل
کبھی تو اپنے ہی افکار سے خوف آتا ہے
کبھی ہم خود کو سمجھ لیتے ہیں جیسے پاگل
کاٹ کی، تلوار کی باتیں کریں
دوست ایسے پیار کی باتیں کریں
دردِ گُردہ کا مجرب ہے علاج
پہلوئے دِلدار کی باتیں کریں
ہم گریباں چاک، دامن تار تار
جبہ و دستار کی باتیں کریں
مسکرا کر دیکھیے تو اک ذرا
دیکھیے تو آپ کا جاتا ہے کیا
مجھ سے لوہا مَس ہوا سونا ہوا
میں کہ پارس تھا سو پتھر ہی رہا
جو نہ سہہ پائے عذابِ آگہی
اس کے حق میں بے خبر رہنا بھلا
منتظر ہیں مگر قمیصوں کے
کئی یعقوب اب بھی زندہ ہیں
جن کی آنکھوں کے گہرے حلقوں میں
آس کے دِیپ جھِلملاتے ہیں
جیسے پانی میں چاندنی جھلکے
جیسے اشکوں کی تیز بارش میں