Showing posts with label شعیب بن عزیز. Show all posts
Showing posts with label شعیب بن عزیز. Show all posts

Wednesday, 24 February 2021

اب اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں

 اب اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں

اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں

اب تو اس کی آنکھوں کے مے کدے میسر ہیں

پھر سکون ڈھونڈو گے ساغروں میں، جاموں میں

دوستی کا دعویٰ کیا،۔ عاشقی سے کیا مطلب

میں تِرے فقیروں میں، میں تِرے غلاموں میں

Tuesday, 23 February 2021

دل آباد کا برباد بھی ہونا ضروری ہے

دلِ آباد کا برباد بھی ہونا ضروری ہے

جسے پانا ضروری ہے اسے کھونا ضروری ہے

مکمل کس طرح ہو گا تماشہ برق و باراں کا

تِرا ہنسنا ضروری ہے مِرا رونا ضروری ہے

بہت سی سرخ آنکھیں شہر میں اچھی نہیں لگتیں

تِرے جاگے ہوؤں کا دیر تک سونا ضروری ہے

Thursday, 21 January 2021

اداس گلیوں میں ناحق بکھر بکھر جاؤں

 اداس گلیوں میں ناحق بکھر بکھر جاؤں

میں اپنے آپ کو لے کر کبھی تو گھر جاؤں

کبھی تو ڈوبتے دن کا ملال ہو مجھ کو

کبھی تو شام کی تنہائیوں سے ڈر جاؤں

کوئی ستارہ کبھی میرے گھر میں بھی اترے

ہر ایک بام پہ کیا صورتِ نظر جاؤں

Monday, 18 January 2021

کہاں لے جاؤں یہ فریاد مولا

 کہاں لے جاؤں یہ فریاد مولا

مِرا بصرہ، مِرا بغداد مولا

بہت دکھ سہہ لیا اہلِ حرم نے

بہت دن رہ لیا ناشاد مولا

بہت سے شاد و فرحاں پھر رہے ہیں

ہمارے ساتھ کے برباد مولا

Saturday, 16 January 2021

ایک ذرہ بھی نہ مل پائے گا میرا مجھ کو

 ایک ذرہ بھی نہ مل پائے گا میرا مجھ کو

زندگی تُو نے کہاں لا کے بکھیرا مجھ کو

سفرِ شب میں تو پھر چاند کی ہمراہی ہے

کیا عجب ہو کسی جنگل میں سویرا مجھ کو

میں کہاں نکلوں گا ماضی کو صدائیں دینے

میں کہ اب یاد نہیں نام بھی میرا مجھ کو