اب اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں
اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں
اب تو اس کی آنکھوں کے مے کدے میسر ہیں
پھر سکون ڈھونڈو گے ساغروں میں، جاموں میں
دوستی کا دعویٰ کیا،۔ عاشقی سے کیا مطلب
میں تِرے فقیروں میں، میں تِرے غلاموں میں
اب اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں
اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں
اب تو اس کی آنکھوں کے مے کدے میسر ہیں
پھر سکون ڈھونڈو گے ساغروں میں، جاموں میں
دوستی کا دعویٰ کیا،۔ عاشقی سے کیا مطلب
میں تِرے فقیروں میں، میں تِرے غلاموں میں
دلِ آباد کا برباد بھی ہونا ضروری ہے
جسے پانا ضروری ہے اسے کھونا ضروری ہے
مکمل کس طرح ہو گا تماشہ برق و باراں کا
تِرا ہنسنا ضروری ہے مِرا رونا ضروری ہے
بہت سی سرخ آنکھیں شہر میں اچھی نہیں لگتیں
تِرے جاگے ہوؤں کا دیر تک سونا ضروری ہے
اداس گلیوں میں ناحق بکھر بکھر جاؤں
میں اپنے آپ کو لے کر کبھی تو گھر جاؤں
کبھی تو ڈوبتے دن کا ملال ہو مجھ کو
کبھی تو شام کی تنہائیوں سے ڈر جاؤں
کوئی ستارہ کبھی میرے گھر میں بھی اترے
ہر ایک بام پہ کیا صورتِ نظر جاؤں
کہاں لے جاؤں یہ فریاد مولا
مِرا بصرہ، مِرا بغداد مولا
بہت دکھ سہہ لیا اہلِ حرم نے
بہت دن رہ لیا ناشاد مولا
بہت سے شاد و فرحاں پھر رہے ہیں
ہمارے ساتھ کے برباد مولا
ایک ذرہ بھی نہ مل پائے گا میرا مجھ کو
زندگی تُو نے کہاں لا کے بکھیرا مجھ کو
سفرِ شب میں تو پھر چاند کی ہمراہی ہے
کیا عجب ہو کسی جنگل میں سویرا مجھ کو
میں کہاں نکلوں گا ماضی کو صدائیں دینے
میں کہ اب یاد نہیں نام بھی میرا مجھ کو