یہ دلخراش و اداس صبحیں, وبال شامیں, عذاب راتیں
جمالِ خوباں، پرانا قصہ، جنوں، محبت، فضول باتیں
دیارِ کلفت کے چارہ گر یہ ستم گرانِ جہاں نما ہیں
یہ گرگ بیٹھے ہیں چلمنوں میں جگہ جگہ پر لگی ہیں گھاتیں
خدا دکھائے گا دن تمہیں جب اٹھائے جاؤ گے مرقدوں سے
زمین اُگلے گی سب دفینے، پھٹیں گی افلاک کی قناتیں