Showing posts with label شعیب افضال. Show all posts
Showing posts with label شعیب افضال. Show all posts

Monday, 26 September 2022

یہ دلخراش و اداس صبحیں وبال شامیں عذاب راتیں

 یہ دلخراش و اداس صبحیں, وبال شامیں, عذاب راتیں

جمالِ خوباں، پرانا قصہ، جنوں، محبت، فضول باتیں

دیارِ کلفت کے چارہ گر یہ ستم گرانِ جہاں نما ہیں

یہ گرگ بیٹھے ہیں چلمنوں میں جگہ جگہ پر لگی ہیں گھاتیں

خدا دکھائے گا دن تمہیں جب اٹھائے جاؤ گے مرقدوں سے

زمین اُگلے گی سب دفینے، پھٹیں گی افلاک کی قناتیں

Monday, 21 February 2022

جھیل کنارے چھم چھم کرتی اجلی بانکی ناروں پر

 جھیل کنارے چھم چھم کرتی اجلی بانکی ناروں پر

من کا سودا کر بیٹھے افسوس تِرے بنجاروں پر

یورپ میں ہم درویشوں نے درویشی کو دان کیا

سنگل کھائے، زہر پیا اور لوٹے پھر انگاروں پر

کل شب پھونکا کیسا جادوگر ہوں پر ان ناگوں نے

جسم جلے طنبورے باجے اوس گری بازاروں پر

Saturday, 1 January 2022

اس بحر بے کراں کے کنارے کھڑے ہوئے

 اس بحرِ بیکراں کے کنارے کھڑے ہوئے

ساحل بھی دیکھتا ہے مجھے ڈوبتے ہوئے

اچھوں کی کچھ کمی نہیں دنیا میں دوستو

ہم کو تمام عمر یہی شائبے ہوئے

پنجوں کو پھر نشاط میں چاٹا زبان سے

بلی نے اک پرند کے پر نوچتے ہوئے

Friday, 31 December 2021

جھیل کی تلچھٹ میں بیٹھی کسمساتی ریت ہوں

 جھیل کی تلچھٹ میں بیٹھی کسمساتی ریت ہوں

روشنی ہو جاؤں گا پھر کائناتی ریت ہوں

پیش خیمہ ہوں کسی طوفانِ خشم آلود کا

نقرئی جملہ افق کو گدگداتی ریت ہوں

آفرینش نے مجھے کوٹا تھا کاری ضرب سے

مجھ کو اڑنا ہے ابد تک کھنکھناتی ریت ہوں

Thursday, 12 November 2020

اندھیارے کی اس آڑھت میں سب کچھ بیچا جا سکتا ہے

اندھیارے کی اس آڑھت میں سب کچھ بیچا جا سکتا ہے

روح کی بولی لگ جاتی ہے جسم خریدا جا سکتا ہے

دامنِ چاک کا رونا کیسا چاک جگر کے سل جاتے ہیں

درد زیادہ بڑھ جائے تو دل بھی دھویا جا سکتا ہے

اس نے میسیج میں پوچھا ہے مجھ سے مل کر کیا کرنا ہے

میں نے کہا جی سچ پوچھیں تو زلف سے کھیلا جا سکتا ہے