Showing posts with label نادر کاکوری. Show all posts
Showing posts with label نادر کاکوری. Show all posts

Monday, 27 March 2023

یہ وضح قومیت آئندہ رخصت ہونے والی ہے

 یہ وضح قومیت آئندہ رخصت ہونے والی ہے

نئی تہذیب سے تجدیدِ ملت ہونے والی ہے

شبِ لذت ہے آخر اور محفل اٹھتی جاتی ہے

سحر کیا ہونے والی ہے قیامت ہونے والی ہے

نئے سامانِ آرائش فراہم ہوتے جاتے ہیں

فراہم کیوں نہ ہوں ان کی ضرورت ہونے والی ہے

Wednesday, 22 December 2021

آج ہم اس کو لڑا دیں گے ترے تیر کے ساتھ

 آج ہم اس کو لڑا دیں گے تِرے تیر کے ساتھ

آہ بھی تیر ہے گر آہ ہے تاثیر کے ساتھ

اب کسی فتنۂ محشر کے بنیں گے شاگرد

ہم بھی اب چال چلیں گے فلک پیر کے ساتھ

دل پری خانہ بنا،۔ عکسِ پری پیکر سے

اُڑ چلا سارا مکاں ایک ہی تصویر کے ساتھ

Tuesday, 21 December 2021

ہوا جو بادیہ پیما میں سوئے شہر شعور

 زمانہ با تو نہ سازد تو باز ما نہ بساز


ہوا جو بادیہ پیما میں سوئے شہر شعور

تو راستہ میں غضب کا پڑا نشیب و فراز

بڑی تو پہلے مجھے آ پڑی یہی دِقت

کہ اس سفر کا کروں کس طرح سے میں آغاز

کروڑ ہا تھے مِرے ہمسفر گروہ گروہ

نئی تراش، نئی وضع اور نیا انداز

Friday, 17 December 2021

زاہد کو اپنے زہد پہ کس درجہ ناز ہے

 زاہد کو اپنے زہد پہ کس درجہ ناز ہے

اس نے سنا نہیں کہ؛ خدا بے نیاز ہے

تم شمع رو ہو میں تو مجسم ہوں ایک شمع

رگ رگ میں میری حالتِ سوز و گداز ہے

پہلے گناہ گار ہی پہنچے بہشت میں

وہ تو بڑا کریم،۔ بڑا بے نیاز ہے

Friday, 1 January 2021

بیٹھی ہے کس سکوت میں شمع مزار تو

 بیٹھی ہے کس سکوت میں شمعِ مزار تُو

اے شمع! کس شہید کی ہے تکیہ دار تُو

کیا تیرا دل بھی میری طرح درد مند ہے

تجھ کو بھی کنجِ شاہِ غریبی پسند ہے

اس تیرہ روزگار و پُرآشوب دور میں

دو تیرے درد مند ہیں، اقبال اور میں

Wednesday, 21 December 2016

اکثر شب تنہائی میں کچھ دیر پہلے نیند سے

اکثر شبِ تنہائی میں

کچھ دیر پہلے نیند سے

گزری ہوئی دلچسپیاں 

بیتے ہوئے دن عیش کے

بنتے ہیں شمعِ زندگی 

اور ڈالتے ہیں روشنی

اب نہ حسرت نہ یاس ہے دل میں

 اب نہ حسرت نہ یاس ہے دل میں

کوئی بھی اس مکان میں نہ رہا

کیا شکایت جو کٹ گئے گاہک

مال ہی جب دکان میں نہ رہا

مر کے رہنا پڑا اب اس میں آہ

جیتے جی جس مکان میں نہ رہا

پھیر لیتا ہے مکدر ہو کے منہ وہ ہم کس سے کہیں

پھیر لیتا ہے مکدر ہو کے منہ، وہ ہم کس سے کہیں

ہاۓ جو جی پر گزرتی ہے، وہ ہم کس سے کہیں

مانعِ عرضِ تمنا کیوں نہ ہو رشکِ رقیب

ان سے ہم کہنے نہ پائیں ان کے مونس سے کہیں

نادرؔ اس محفل میں ہیں وہ نام کے صدرِ انجمن

آپ کو کہنا ہو جو کچھ، اہلِ مجلس سے کہیں


نادر کاکوری

نادر کاکوروی 

شکایت کر کے غصہ اور ان کا تیز کرنا ہے

شکایت کر کے غصہ اور ان کا تیز کرنا ہے

ابھی تو گفتگوئے مصلحت آمیز کرنا ہے

یہ دنیا جائے آسائش نہیں ہے، آزمائش ہے

یہاں جو سختیاں تجھ پر پڑیں انگیز کرنا ہے

غزل خوانی کو اس بزم میں آیا نہیں نادرؔ

تجھے یاں وعظ کہنا، پندِ سود آمیز کرنا ہے


نادر کاکوری

نادر کاکوروی