یہ وضح قومیت آئندہ رخصت ہونے والی ہے
نئی تہذیب سے تجدیدِ ملت ہونے والی ہے
شبِ لذت ہے آخر اور محفل اٹھتی جاتی ہے
سحر کیا ہونے والی ہے قیامت ہونے والی ہے
نئے سامانِ آرائش فراہم ہوتے جاتے ہیں
فراہم کیوں نہ ہوں ان کی ضرورت ہونے والی ہے
یہ وضح قومیت آئندہ رخصت ہونے والی ہے
نئی تہذیب سے تجدیدِ ملت ہونے والی ہے
شبِ لذت ہے آخر اور محفل اٹھتی جاتی ہے
سحر کیا ہونے والی ہے قیامت ہونے والی ہے
نئے سامانِ آرائش فراہم ہوتے جاتے ہیں
فراہم کیوں نہ ہوں ان کی ضرورت ہونے والی ہے
آج ہم اس کو لڑا دیں گے تِرے تیر کے ساتھ
آہ بھی تیر ہے گر آہ ہے تاثیر کے ساتھ
اب کسی فتنۂ محشر کے بنیں گے شاگرد
ہم بھی اب چال چلیں گے فلک پیر کے ساتھ
دل پری خانہ بنا،۔ عکسِ پری پیکر سے
اُڑ چلا سارا مکاں ایک ہی تصویر کے ساتھ
زمانہ با تو نہ سازد تو باز ما نہ بساز
ہوا جو بادیہ پیما میں سوئے شہر شعور
تو راستہ میں غضب کا پڑا نشیب و فراز
بڑی تو پہلے مجھے آ پڑی یہی دِقت
کہ اس سفر کا کروں کس طرح سے میں آغاز
کروڑ ہا تھے مِرے ہمسفر گروہ گروہ
نئی تراش، نئی وضع اور نیا انداز
زاہد کو اپنے زہد پہ کس درجہ ناز ہے
اس نے سنا نہیں کہ؛ خدا بے نیاز ہے
تم شمع رو ہو میں تو مجسم ہوں ایک شمع
رگ رگ میں میری حالتِ سوز و گداز ہے
پہلے گناہ گار ہی پہنچے بہشت میں
وہ تو بڑا کریم،۔ بڑا بے نیاز ہے
بیٹھی ہے کس سکوت میں شمعِ مزار تُو
اے شمع! کس شہید کی ہے تکیہ دار تُو
کیا تیرا دل بھی میری طرح درد مند ہے
تجھ کو بھی کنجِ شاہِ غریبی پسند ہے
اس تیرہ روزگار و پُرآشوب دور میں
دو تیرے درد مند ہیں، اقبال اور میں
اکثر شبِ تنہائی میں
کچھ دیر پہلے نیند سے
گزری ہوئی دلچسپیاں
بیتے ہوئے دن عیش کے
بنتے ہیں شمعِ زندگی
اور ڈالتے ہیں روشنی
اب نہ حسرت نہ یاس ہے دل میں
کوئی بھی اس مکان میں نہ رہا
کیا شکایت جو کٹ گئے گاہک
مال ہی جب دکان میں نہ رہا
مر کے رہنا پڑا اب اس میں آہ
جیتے جی جس مکان میں نہ رہا
پھیر لیتا ہے مکدر ہو کے منہ، وہ ہم کس سے کہیں
ہاۓ جو جی پر گزرتی ہے، وہ ہم کس سے کہیں
مانعِ عرضِ تمنا کیوں نہ ہو رشکِ رقیب
ان سے ہم کہنے نہ پائیں ان کے مونس سے کہیں
نادرؔ اس محفل میں ہیں وہ نام کے صدرِ انجمن
آپ کو کہنا ہو جو کچھ، اہلِ مجلس سے کہیں
نادر کاکوری
نادر کاکوروی
شکایت کر کے غصہ اور ان کا تیز کرنا ہے
ابھی تو گفتگوئے مصلحت آمیز کرنا ہے
یہ دنیا جائے آسائش نہیں ہے، آزمائش ہے
یہاں جو سختیاں تجھ پر پڑیں انگیز کرنا ہے
غزل خوانی کو اس بزم میں آیا نہیں نادرؔ
تجھے یاں وعظ کہنا، پندِ سود آمیز کرنا ہے
نادر کاکوری
نادر کاکوروی