پھیر لیتا ہے مکدر ہو کے منہ، وہ ہم کس سے کہیں
ہاۓ جو جی پر گزرتی ہے، وہ ہم کس سے کہیں
مانعِ عرضِ تمنا کیوں نہ ہو رشکِ رقیب
ان سے ہم کہنے نہ پائیں ان کے مونس سے کہیں
نادرؔ اس محفل میں ہیں وہ نام کے صدرِ انجمن
آپ کو کہنا ہو جو کچھ، اہلِ مجلس سے کہیں
نادر کاکوری
نادر کاکوروی
No comments:
Post a Comment