Wednesday, 21 December 2016

اب نہ حسرت نہ یاس ہے دل میں

 اب نہ حسرت نہ یاس ہے دل میں

کوئی بھی اس مکان میں نہ رہا

کیا شکایت جو کٹ گئے گاہک

مال ہی جب دکان میں نہ رہا

مر کے رہنا پڑا اب اس میں آہ

جیتے جی جس مکان میں نہ رہا

نادؔر افسوس قدر دانِ سخن

ایک ہندوستان میں نہ رہا


نادر کاکوری

نادر کاکوروی

No comments:

Post a Comment