Wednesday, 21 December 2016

اکثر شب تنہائی میں کچھ دیر پہلے نیند سے

اکثر شبِ تنہائی میں

کچھ دیر پہلے نیند سے

گزری ہوئی دلچسپیاں 

بیتے ہوئے دن عیش کے

بنتے ہیں شمعِ زندگی 

اور ڈالتے ہیں روشنی

میرے دلِ صد چاک پر

وہ بچپن اوروہ سادگی

وہ رونا وہ ہنسنا کبھی

پھر وہ جوانی کے مزے

وہ دل لگی وہ قہقہے

وہ عشق وہ عہدِ وفا

وہ وعدہ اور وہ شکریہ

وہ لذتِ بزمِ طرب

یاد آتے ہیں ایک ایک سب

دل کا کنول جو روز و شب 

رہتا شگفتہ تھا سو اب

اس کا یہ ابتر حال ہے

اک سبزۂ پامال ہے

اک پھول کمہلایا ہوا

ٹوٹا ہوا بکھرا ہوا

روندا پڑا ہے خاک پر

یوں ہی شبِ تنہائی میں

کچھ دیر پہلے نیند سے

گزری ہوئی ناکامیاں

بیتے ہوئے دن رنج کے

بنتے ہیں شمعِ بے کسی

اور ڈالتے ہیں روشنی

ان حسرتوں کی قبر پر

جوآرزوئیں پہلے تھیں 

پھر غم سے حسرت بن گئیں

غم دوستوں کی فوت کا

ان کی جواناں موت کا

لے دیکھ شیشے میں مرے 

ان حسرتوں کا خون ہے

جو گردشِ ایام سے

جو قسمتِ ناکام سے

یا عیشِ غمِ انجام سے

مرگِ بتِ گلفام سے

خود میرے غم میں مر گئیں

کس طرح پاؤں میں حزیں

قابو دلِ بے صبر پر

جب آہ ان احباب کو

میں یاد کر اٹھتا ہوں جو

یوں مجھ سے پہلے اٹھ گئے

جس طرح طائر باغ کے

یا جیسے پھول اور پتیاں

گر جائیں سب قبل از خزاں

اور خشک رہ جائے شجر

اس وقت تنہائی مری

بن کر مجسم بے کسی

کر دیتی ہے پیشِ نظر

ہو حق سا اک ویران گھر

برباد جس کو چھوڑ کے

سب رہنے والے چل بسے

ٹوٹے کواڑ اور کھڑکیاں

چھت کے ٹپکنے کے نشاں

پرنالے ہیں، روزن نہیں

یہ ہال ہے، آنگن نہیں

پردے نہیں، چلمن نہیں

اک شمع تک روشن نہیں

میرے سوا جس میں کوئی 

جھانکے نہ بھولے سے کبھی

وہ خانۂ خالی ہے دل

پوچھے نہ جس کو دیو بھی

اجڑا ہوا ویران گھر

یوں ہی شب تنہائی میں

کچھ دیر پہلے نیند سے

گزری ہوئی دلچسپیاں

بیتے ہوۓئے دن عیش کے

بنتے ہیں شمعِ زندگی

اور ڈالتے ہیں روشنی

میرے دل صد چاک پر


نادر کاکوری

نادر کاکوروی

No comments:

Post a Comment