گیت
زمیں کے سورجوں کو گہن لگ گیا
آنگنوں کا چاند چاند جل چکا
میری زندگی کے خواب تُو بھی جل
نفرتوں کی آگ ہے قدم قدم
چاہتوں بھرے گلاب تُو بھی جل
دھوپ چھاؤں، چاندنی کو پھونک دے
اس جہاں کی روشنی کو پھونک دے
خوشبوؤں میں کوئی زہر بھر گیا
پھول کی پری پری کو پھونک دے
سر پھری ہوا کا رخ بدل گیا
موسموں کا رنگ روپ جل گیا
میری سانس کی کتاب تُو بھی جل
چاہتوں بھرے گلاب تُو بھی جل
شبنمی نظر نظر نہ دیکھ تُو
جل رہا نگر نگر نہ دیکھ تُو
حرف حرف سے یقیں اٹھ گیا
اب خدا کا اور در نہ دیکھ تُو
آدمی کو آدمی نگل گیا
آج کی چِتا میں کل بھی جل گیا
میری عمر بے نصاب تُو بھی جل
چاہتوں بھرے گلاب تُو بھی جل
سوہن راہی
No comments:
Post a Comment